خاندانی رجسٹر سرٹیفکیٹس غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش ہیں: تلنگانہ بی جے پی صدر

   

حیدرآباد، 28 جولائی (یو این آئی) تلنگانہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر این رام چندر راؤ نے منگل کو الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کی جانب سے می سیوا مراکز کے ذریعے فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا فیصلہ دراصل روہنگیا اور بنگلہ دیشی غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے اور غیر قانونی ووٹ بینک کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک پس پردہ کوشش ہے ۔اپنے بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے کہنے پر کیا گیا ہے ، جس سے آئینی، انتخابی اور قومی سلامتی سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔رام چندر راؤ نے الزام لگایا کہ ان سرٹیفکیٹس کو ایسے معتبر دستاویزات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ “بغیر دستاویزات والے افراد” کے نام ووٹر لسٹ میں برقرار رکھے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ راشن کارڈ اور خاندانی ریکارڈ کی بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے ، جو صرف خاندان کی ساخت یا افراد کی تفصیلات کی تصدیق کرتا ہے ، اسے کسی بھی صورت میں ہندوستانی شہریت کا ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔
ان کا الزام تھا کہ کانگریس، بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) اور اے آئی ایم آئی ایم اس اقدام کے ذریعے غیر قانونی ووٹ بینک کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔بی جے پی رہنما نے خبردار کیا کہ شہریت کی مناسب جانچ کے بغیر اس طرح کے سرٹیفکیٹس جاری کرنا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آدھار کارڈ، راشن کارڈ یا فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ کسی بھی شخص کو بھارتی شہریت فراہم نہیں کرتے ، اور ووٹ ڈالنے کی اہلیت کا تعین صرف آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے ۔رام چندر راؤ نے کہا کہ بی جے پی کسی بھی غیر قانونی بنگلہ دیشی، پاکستانی یا روہنگیا تارکینِ وطن کو ووٹر فہرست میں شامل کرنے کی ہر کوشش کی مخالفت کرے گی اور اس معاملے پر قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ عوامی احتجاج بھی کرے گی۔