خاندان کی رضامندی پرانکیتا کی آخری رسومات انجام دی گئیں

,

   

دہرادون: اتراکھنڈ کے انکتا بھنڈاری قتل معاملہ میں میں متاثرہ کے ارکان خاندان نے میت کی آخری رسومات ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد این آئی ٹی گھاٹ میں آخری رسومات انجام دی گئیں۔ مقتول لڑکی کے والد نے علاقہ سے شاہراہ خالی کرنے کی بھی اپیل کی کیونکہ مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ کو بلاک کر دیا تھا۔ متاثرہ کے والد نے اس سے قبل ملزم کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ دی جائے اور اس معاملے کی فاسٹ ٹریک کورٹ میں سماعت کی جائے۔مقتول انکتا کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے پولیس کو 18 ستمبر کو ہی اطلاع دے دی تھی، جس دن ان کی 19 سالہ بیٹی لاپتہ ہو گئی تھی۔ انہوں نے ابھی تک حکومت سے کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔متوفی کے لواحقین اور مقامی لوگوں نے سری نگر کیدارناتھ شاہراہ کو بلاک کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے ابھی تک ان کے تمام مطالبات پر عمل نہیں کیا اور جب تک ایسا نہیں ہوتا وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہفتہ کو اتراکھنڈ کے پولیس چیف اشوک کمار نے مقتول کے والد کو یقین دلایا تھا کہ وہ تمام ملزمان کو پھانسی دلانے کی کوشش کریں گے۔ ڈی جی پی سے متوفی کے والد کے ساتھ بات چیت کی ریکارڈنگ ریاستی پولیس نے جاری کی ہے۔مقامی بازار آج بند رکھا گیا اور اظہار یگانگت کیا گیا ۔دریں اثنا، ملزم پلکت آریہ کے والد سابق بی جے پی لیڈر ونود آریہ نے اتوار کو اپنے بیٹے کو سیدھا لڑکا قرار دیا اور اپنے اوپر لگے تمام الزامات سے انکار کیا۔ بی جے پی نے ونود آریہ اور ان کے بیٹے انکت آریہ کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ حالانکہ ونود آریہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود ہی اس معاملے کی منصفانہ جانچ کے لیے ہفتہ کو پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔