اضافہ شدہ نشستوں کے لیے ماپ آپ کونسلنگ کا انعقاد کرنے ہائی کورٹ کے عبوری احکامات
حیدرآباد ۔ 10 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ہائی کورٹ نے خانگی انجینئرنگ کالجس میں سی ایس ای میں نشستوں میں اضافہ کی اجازت نہ دینے سے متعلق حکومت کے فیصلے پر اعتراض کیا ہے ۔ حالانکہ اے آئی سی ٹی ای نے اس کو منظوری دی ہے اور ساتھ ہی جے این ٹی یو نے این او سی جاری کیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے اضافی شدہ نشستوں کو منظوری دیتے ہوئے داخلوں کے لیے ماپ اپ کونسلنگ کرانے کا حکومت کو حکم دیا ۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی واضح کردیا کہ اس کونسلنگ کے ذریعہ حاصل کئے جانے والے داخلے حتمی فیصلے سے مشروط ہوں گے ۔ نئے کورسیس کے آغاز پر نشستوں کے اضافہ ، کورسیس کے انضمام ، منسوحی وغیرہ کی اجازت نہ دیتے ہوئے حکومت نے 24 اگست کو جاری کردہ میمو کے ساتھ نئے کورسیس شروع کرنے کی اجازت سے متعلق تکنیکی تعلیم کے قانون میں موجود سیکشن 20 کو چیلنج کرتے ہوئے مری ایجوکیشنل سوسائٹی ، ایم جی آر ، ودیا جیوتی ایجوکیشنل سوسائٹی ، ملاریڈی کالج ، انوراگ انجینئرنگ کالج ، سی ایم آر ایجوکیشنل سوسائٹی کے علاوہ دوسرے کالجس نے 11 پیٹیشنس داخل کئے تھے ۔ جس کی سماعت کرنے والے سنگل جج نے عبوری احکامات جاری کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ جس کے خلاف چند انجینئرنگ کالجس نے چیف جسٹس الوک ارادھے جسٹس جے سرینواس راؤ پر مشتمل بنچ سے رجوع ہوئے درخواست گذاروں کی جانب سے سینئیر وکلا ، ڈی پرکاش ریڈی ، پی سری راگھورام ، ایس نرنجن ریڈی نے دلائل پیش کئے اور بتایا کہ 70 تعلیمی اداروں نے نشستوں میں اضافہ کے لیے اجازت طلب کی جس میں 56 تعلیمی اداروں کو منظوری دی گئی ۔ ہمیں صرف اور صرف سیاسی وجوہات سے انکار کیا گیا ۔ بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں کوئی کوتاہیاں نہیں ہے ۔ ڈیمانڈ نہ رکھنے والے کورسیس میں نشستوں کی تعداد کو گھٹا کر کمپیوٹر سائنس کورسیس کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے گا جس کو اے آئی سی ٹی ای ، جے این ٹی یو نے منظوری دی ہے ۔ تاہم حکومت نے اجازت دینے سے انکار کیا ہے ۔ ایڈوکیٹ جنرل اے سدرشن ریڈی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اس میں حکومت کا کوئی سیاسی نظریہ نہیں ہے ۔ جن کالجس کو اب منظوری دی گئی ہے انہیں گذشتہ 10 سال میں نشستوں کا اضافہ کرنے کی منظوری نہیں دی گئی ۔ دونوں فریقین کے دلال سننے کے بعد ڈیویژن بنچ نے کہا کہ کورسیس میں اضافہ کے لیے مارچ میں جے این ٹی یو سے این او سی حاصل کی ۔ بنیادی سہولتیں بھی بہتر ہے ۔ حکومت کی جانب سے انکار کی تفصیلات ریکارڈ میں نہیں ہے ۔ ان تمام کا جائزہ لینے کے بعد سنگل جج کی جانب سے جاری کردہ احکامات کو منسوخ کرتے ہوئے ان کالجس کو نشستوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی اجازت دینے کا حکومت کو حکم دیا ۔ ان نشستوں کے داخلوں کے لیے ماپ اپ کونسلنگ کا انعقاد کرنے کی ہدایت دی ۔۔ 2