جاریہ سال 2 لاکھ روپئے فیس ہونے کا اندیشہ ، ایک لاکھ فیس وصول کرنے والے کالجوں کی تعداد دُگنی ہوسکتی ہے!
حیدرآباد۔ 10 فروری (سیاست نیوز) انجینئرنگ کالیجس کی جانب سے بی ٹیک کورسیس کیلئے فیس میں اضافہ کے مطالبہ کو سن کر والدین کے ہوش اُڑ گئے۔ کالج انتظامیہ نے موجودہ سالانہ فیس میں بیک وقت 50% تا 100% اضافہ کرنے کا تلنگانہ داخلہ فیس ریگولیٹری کونسل (TAFRC) سے مطالبہ کیا ہے۔ کئی کالجوں نے جہاں 50% سے 80% فیس میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، وہیں CBIT نے 2.94 لاکھ روپئے فیس کی تجویز پیش کی ہے۔ پانچ کالجوں نے 2 لاکھ سے زائد فیس کی تجویز پیش کی ہے۔ ایک لاکھ تا 2 لاکھ کے درمیان فیس کا مطالبہ کرنے والے کالجوں کی تعداد 60 سے زائد ہے۔ فی الحال ریاست بھر میں 33 انجینئرنگ کالیجس میں ایک لاکھ سے زائد فیس وصول کی جارہی ہے۔ اب ان کالیجس کی تعداد دُگنی ہوجانے کے اندیشہ پایا جاتا ہے۔ پہلی مرتبہ کئی انجینئرنگ کالیجس کی فیس 2 لاکھ روپئے سے زائد ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ ریاست میں ہر تین سال میں ایک مرتبہ انجینئرنگ کالیجس کی فیس پر نظرثانی کی جاتی ہے۔ فی الحال تعلیمی سال میں عمل ہونے والی فیس سال 2022ء میں مقرر کی گئی تھی۔ یہ فیس سال 2022-23ء، 2023-24ء اور 2024-25ء کے دوران طلباء و طالبات سے وصول کی گئی تھی۔ جاریہ سال اُس فیس کی مدت پوری ہورہی ہے۔ آئندہ تعلیمی سال 2025-26ء سے نئے فیس اسٹرکچر پر عمل کیا جانے والا ہے جو تین سال 2025-26ء، 2026-27ء اور 2027-28ء میں داخلہ لینے والے طلبہ کیلئے عمل میں رہے گا۔ نئی فیس کیلئے 157 خانگی انجینئرنگ کالیجس میں TAFRC میں درخواستیں داخل کی ہیں۔ سال 2021-22ء ، 2022-23ء اور 2023-24ء کے مالیاتی سال میں آمدنی، اخراجات پر مشتمل آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی ہے جس کا آڈیٹر کی جانب سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ کالیجس میں عملے کی تنخواہیں، انتظامی اخراجات کے علاوہ دیگر اخراجات کی بنیاد پر فیس میں اضافہ کرنے کا کمیٹی فیصلہ کرتی ہے۔2