خلائی تحقیق کے شعبہ میں 11,100 سیٹلائیٹس کے ساتھ امریکہ سرفہرست

   

چین اور برطانیہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ، ہندوستان کے 120 ایکٹیو سیٹلائیٹس خلاء میں
حیدرآباد ۔17 ۔ جولائی (سیاست نیوز) خلائی تحقیق کے شعبہ میں اگرچہ کئی ممالک نے غیر معمولی پیشرفت کرتے ہوئے کئی اہم قدرتی راز عوام تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ خلائی تحقیق کے معاملہ میں ناسا اور اسرو جیسے اداروں نے اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ ہندوستان کو اعزاز حاصل ہے کہ اس نے اسرو کے ذریعہ کئی ترقی یافتہ ممالک کے سیٹلائیٹس کو خلاء میں بھیجنے کا کام کیا ہے۔ سیٹلائیٹس کی پرواز کے معاملہ میں امریکہ کو دیگر ممالک پر سبقت حاصل ہے۔ امریکہ کے 11,100 سے زائد ایکٹیو سیٹلائیٹس خلاء میں تحقیقی کام میں مصروف ہیں۔ امریکہ نے سیٹلائیٹس کے ذریعہ اپنے دفاعی نظام کو بھی مستحکم کیا ہے اور دشمن ممالک پر آسمان سے نظر رکھی جارہی ہے۔ چین کے 1000 سے زائد ایکٹیو سیٹلائیٹس خلاء میں روانہ کئے گئے ۔ برطانیہ 700 سیٹلائیٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ روس کے 220 اور جاپان کے 150 ایکٹیو سیٹلائیٹس خلائی تحقیق کے کام میں جوڑ دیئے گئے ۔ ہندوستان میں اسرو جیسا قابل فخر ادارہ موجود ہے اور ہندوستان کے ایکٹیو سیٹلائیٹس کی تعداد 120 سے زائد ہے۔ خلائی تحقیق کے معاملہ میں ٹاپ 10 ممالک میں فرانس ، کینیڈا ، جرمنی اور ساؤتھ کوریا شامل ہیں۔ ہندوستان نے چندرائن مشن کے ذریعہ چاند پر موجود مختلف عجائبات اور قدرتی مناظر کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا ہے۔ چاند پر تحقیق کے علاوہ ہندوستان دیگر سیاروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرو اور ناسا نے سورج کی تحقیق کا منصوبہ بنایا ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی اس سلسلہ میں خلائی مشن کا اعلان کیا جائے گا۔ سیٹلائیٹس کے ذریعہ ترقی یافتہ ممالک اپنی سیکوریٹی اور سلامتی کو مزید مستحکم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ دفاعی نظام کے استحکام کے علاوہ ملک میں ایسی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھی جاتی ہے جو سلامتی کے برخلاف ہیں۔1/k/k/b