74 فیصد خواتین تعلیم یافتہ ، محض 38 فیصد خواتین ہی روزگار سے وابستہ
حیدرآباد ۔15 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں خواتین کی خواندگی میں حالیہ برسوں میں تیزی سے اضافہ ضرور ہوا لیکن روزگار کے معاملہ میں خواتین کی حصہ داری اطمینان بخش نہیں ہے۔ 1994 سے خواتین میں خواندگی کا فیصد 43.1 سے بڑھ کر 2024-25 میں 74.9 فیصد ہوچکا ہے لیکن ملازمتوں میں حصہ داری 38.8 فیصد تک محدود ہوچکی ہے۔ تعلیم میں اضافہ کے ذریعہ امید کی جارہی تھی کہ روزگار کے معاملہ میں بھی خواتین کی حصہ داری میں اضافہ ہوگا۔ خواتین میں سماج کے تقریباً ہر شعبہ میں اپنی بہتر کارکردگی کے ذریعہ اہم عہدوں کو حاصل کیا ہے۔ سرکاری شعبہ جات ہوں یا پرائیویٹ انڈسٹریز دونوں میں اہم انتظامی عہدوں پر خواتین فائز ہیں۔ مجموعی طور پر روزگار میں خواتین کی حصہ داری کا جائزہ لیں تو 1994 میں خواتین کی حصہ داری 28.6 فیصد تھی جو 2024-25 میں محض 38.8 فیصد ہوئی ہے۔ 2023-24 میں ملازمتوں میں خواتین کا حصہ 40.3 فیصد درج کیا گیا لیکن ایک سال بعد اس میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر خود مکتفی بنانے کے لئے کئی اسکیمات کا آغاز کیا گیا ۔ باوجود اس کے حالیہ سروے میں اس بات کا انکشاف خواتین کی تنظیموں کے لئے تشویش کا باعث ہے کہ ملازمتوں میں حصہ داری کی رفتار سست ہے۔تعلیم یافتہ خواتین تعداد میں اصافہ ہوا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ دو برسوں میں ملک میں خواتین کی خواندگی 80 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ سروے کے مطابق سماج کی معاشی ترقی میں خواتین کا اہم رول ہے۔ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ کے ذریعہ حکومت کئی اسکیمات پر عمل پیرا ہے۔ خواتین کے گروپس کو سولار اینرجی پراجکٹس الاٹ کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے ایک کروڑ خواتین کو کروڑپتی بنانے کا اعلان کیا۔1/k/a/b