محکمہ اقلیتی بہبود کے احکامات توہین عدالت کے مترادف : ماہرین قانون کا ردعمل
حیدرآباد۔19جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کی ذمہ داری جناب خواجہ معین الدین ویجلنس آفیسر کو تفویض کرنے کے سلسلہ میں جی او جاری کردیا گیا۔ جی او آر ٹی نمبر13 میں کہا گیا ہے کہ 10جنوری 2023 کو جاری کیئے گئے جی او آر ٹی 7 میں ترمیم کے لئے یہ جی او جاری کیا گیا ہے جس میں جناب سید خواجہ معین الدین کو جو چیف ویجلنس آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ان کو سی ای او کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے جو کہ اس وقت تک انچارج سی ای او ہوں گے جب تک بورڈ میں مستقل سی ای او کے عہدیدار کا تقرر عمل میں نہیں لایا جاتا ۔ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم کی جانب سے جاری کئے جانے والے ان احکامات کو تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں توہین عدالت تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے مستقل سی ای او کے تقرر کے معاملہ میں دائر کردہ رٹ درخواست کی سماعت کے دوران واضح احکامات جاری کئے تھے اور اندرون 4ہفتہ وقف ایکٹ کے مطابق مستقل سی ای او کے تقرر کے سلسلہ میں احکامات کی اجرائی کی تاکید کی تھی لیکن 10جنوری 2023 کو محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جی او آر ٹی 7 جاری کرتے ہوئے سیکریٹری ٹمریز جناب ایم بی شفیع اللہ آئی ایف ایس کو اضافی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود مستقل چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کے بجائے عارضی انتظامات کے متعلق ماہرین قانون کا کہناہے کہ اس طرح کے احکامات ریاستی حکومت کی جانب سے توہین عدالت کے مترادف ہیں۔ جناب سید خواجہ معین الدین چیف ویجلنس آفیسر تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ 20جنوری کو انچارج سی ای او وقف بورڈ کی حیثیت سے اپنی نئی ذمہ داریوں کا جائزہ لیں گے ۔م