داڑھی اور حجاب … گجرات میں انتہا پسندی کی علامت
اعظم خاں کی یونیورسٹی نشانہ پر … تسلیمہ نسرین کی واپسی
رشیدالدین
’’داڑھی اور حجاب انتہا پسندی کی علامت‘‘ یقیناً یہ پڑھ کر آپ چونک گئے ہوں گے لیکن انتہا پسندی کی علامات ابھی باقی ہیں۔ اگر آپ بول چال میں عربی الفاط کا استعمال کرتے ہیں، غزہ میں اسرائیلی بربریت کی مذمت کریں ، امریکہ کے مقابلہ ایران کی تائید کریں، مسلمانوں پر مظالم کی سوشیل میڈیا میں مذمت کریں، دینی اور اردو میڈیم مدارس کا دورہ کریں، وہابی یا سلفی عقائد میں دلچسپی لیں اور مسجد میں اعتکاف کریں ، تب بھی گجرات پولیس کی آپ پر نظر ہوسکتی ہے۔ خلیجی ممالک سے واپس ہونے والے افراد اور جنگل میں سیر و تفریح میں دلچسپی بھی گجرات پولیس کی نظر میں آپ کو انتہا پسند (Radical) بنادے گی۔ یہ تمام باتیں محض سنی سنائی یا پھر ہوائی نہیں ہیں بلکہ گجرات پولیس کے خفیہ دستاویزات کا حصہ ہیں جن کا گزشتہ دنوں افشاء ہوگیا۔ گجرات حکومت نے انتہا پسند سرگرمیوں پر نظر رکھنے ، مخالف انتہا پسند سیل قائم کیا۔ اس خصوصی سیل کو 8 صفحات پر مشتمل خفیہ ہدایات جاری کی گئیں جن میں انتہا پسندوں کی پہچان کی علامتیں بیان کی گئیں۔ گجرات جس کی سرزمین پہلے ہی مسلمانوں کے خون سے سیراب ہوچکی ہے، باوجود اس کے طرح طرح سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ نریندر مودی ۔امیت شاہ کی سرزمین میں مسلمانوں کے خلاف نت نئی سازشیں کی جارہی ہے تاکہ دوسرے درجہ کے شہری کا احساس دلایا جاسکے۔ ویسے بھی ملک میں گجرات ، آسام اور اترپردیش مسلمانوں کے خلاف سازش کی تجربہ گاہ بن چکے ہیں جہاں ہندو راشٹر کا ایجنڈہ کھلے عام نافذ العمل ہے ۔ انسداد انتہا پسند سرگرمیاں سیل قائم کرنے کی آخر ضرورت کیوں پڑی؟ ملک بھر میں داڑھی اور ٹوپی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی علامت کے طور پر عام ہوچکے ہیں۔ ٹرین ، بس ، تفریحی مقامات اور تجارتی اداروں میں داڑھی اور ٹوپی دیکھتے ہی فرقہ پرست بے قابو ہورہے ہیں۔ گجرات کے خصوصی سیل کو انتہا پسندوں کی شناخت کے لئے جو علامات پیش کی گئیں ، وہ صرف مسلمانوں سے متعلق ہیں۔ جہاں تک داڑھی کا سوال ہے، ہندو اور سکھ افراد بھی مسلمانوں کی طرح داڑھی رکھتے ہیں لیکن خصوصی سیل کی نظر صرف اچانک داڑھی رکھنے والے مسلمانوں اور اچانک نقاب (حجاب) کرنے والی خواتین پر رہے گی۔ انتہا پسندی سے جن علامات کو جوڑدیا گیا وہ ہر ذی شعور اور سنجیدہ شخص کے لئے ہنسی مذاق کا موضوع بن چکے ہیں۔ عام بول چال میں عربی الفاظ کا استعمال جیسے انشاء اللہ ، ماشاء اللہ ، الحمد اللہ ، جزاک اللہ کہنا بھی کسی کو انتہا پسندوں کی فہرست میں شامل کردے گا۔ اسرائیل اور امریکہ کی مذمت ، ایران کی تائید ، غزہ میں مظالم پر احتجاج اور ماب لنچنگ واقعات پر ناراضگی کے معاملہ میں مسلمانوں کے ساتھ سیکولر اور انصاف پسند ہندو بھی شریک ہیں۔ کیا ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ؟ مساجد میں زیادہ وقت گزارنا، اعتکاف ، سلفی اور وہابی عقائد کو انتہا پسندی کی علامات کے طورپر پیش کرنا ، تنگ نظری اور مذہب کی بنیاد پر عصبیت کا ثبوت ہے۔ سلفی اور وہابی کہتے ہوئے مسلمانوں میں عقائد کے اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش ہے ۔ گھر والوں سے دوری ، سوشیل میڈیا پر مذہبی عقائد کا پرچار، حتیٰ کہ کوئی تفریح کیلئے جنگل جانے کا شوقین ہو تب بھی وہ گجرات پولیس کے راڈار میں رہے گا۔ دشمن ممالک میں فون پر بات چیت پر نظر رکھنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن خلیجی ممالک کا دورہ، وہاں فون پر بات چیت سے انتہا پسندی کا کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ انتہا پسندی کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی شروعات کا گجرات سے آغاز اور جو علامتیں پیش کی گئیں ، وہ اسرائیل کی تیار کردہ ہیں۔ داڑھی تو سادھو ، سنت اور پجاری بھی رکھتے ہیں۔ داڑھی اور پگڑی سکھوں کی شناخت ہے، کیا ان پر بھی گجرات پولیس نظر رکھے گی، ہرگز نہیں ، یہاں تو داڑھی صرف مسلمانوں کی دیکھی جائے گی۔ داڑھی اور حجاب اسلامی شعائر کا حصہ ہے ۔ انہیں انتہا پسندی سے جوڑنا ، مسلم اور اسلام دشمنی کی آخری حد ہے۔ بھگوا لباس ، سر پر چوٹی ، ماتھے پر تلک ، مسلمانوں کے خلاف نفرتی بیانات اور ماب لنچنگ کارروائیاں انتہا پسندی کے زمرہ میں نہیں ہیں کیونکہ ہندوستان عملاً ہندو راشٹر کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ راجستھان ، مدھیہ پردیش ، ہریانہ ، پنجاب اور دوسری ریاستوں میں ہندو خواتین بھی حجاب کرتی ہیں لیکن یہاں پر اعتراض تو صرف مسلمانوں کے حجاب سے ہے۔ ہندو سماج کے مختلف گروپس میں خواتین گھونگھٹ کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلتیں اور گھونگھٹ کے بغیر کسی خاتون کا باہر نکلنا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ سرکاری امتحانات کے موقع پر باحجاب مسلم لڑکیوں کو امتحان سے روکنے کے واقعات عام ہوچکے ہیں۔ انتہا پسندی کی علامات میں مسلمانوں کے امور کو شامل کرتے ہوئے گجرات پولیس کیا پیام دینا چاہتی ہیں۔ دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے داڑھی ، ٹوپی اور کرتا پائجمہ کے افراد کو دیش دروہی کے الزامات کے تحت گرفتاریاں گجرات میں عام ہیں۔ گزشتہ دنوں ملک دشمن سرگرمیوں کے نام پر دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور اساتذہ کو میڈیا کے روبرو پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا کہ مسلمان ملک کے وفادار نہیں ہیں۔ ملک کی تاریخ شاہد ہے کہ دفاعی راز اور ملک سے غداری کے معاملہ میں مسلمانوں سے زیادہ دیگر افراد ملوث پائے گئے ہیں۔ گجرات پولیس گرفتاریوں کے ذریعہ دیگر ریاستوں کو مسلمانوں کے خلاف کارروائی کی ترغیب دے رہی ہے۔ ملک سے غداری کے معاملہ میں مسلمانوں سے زیادہ دیگر مذاہب کے لوگ اگرچہ ثبوت کے ساتھ گرفتار کئے گئے لیکن ان کی کوئی تشہیر نہیں ہوتی۔ برخلاف اس کے مسلمان آسان نشانہ بن جاتے ہیں ۔ بھلے ان کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو۔ فرقہ پرست اور نفرتی عناصر کے لئے مسلمان ہونا ہی سب سے بڑا جرم ہے ۔
مسلمانوں کو دینی اور عصری تعلیم سے دور کرنا بی جے پی اور سنگھ پریوار کی سازش ہے۔ تعلیم کے ذریعہ ہی تابناک مستقبل کی توقع کی جاسکتی ہے اور مسابقتی امتحانات میں مسلم طلبہ نے شاندار مظاہرہ کے ذریعہ اپنی قابلیت اور صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ یونین پبلک سرویس کمیشن کے سیول سرویسز امتحانات میں بھی مسلم امیدواروں کا مظاہرہ قابل رشک رہا ہے ۔ ایک طرف دینی مدارس کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے مسلمانوں کو مذہبی تعلیم اور اسلام سے دور کرنے کی کوشش ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کے قائم کردہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اترپردیش کی یوگی ادتیہ ناتھ حکومت نے اعظم خاں کی جانب سے قائم کردہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کو ختم کرنے کی ٹھان لی ہے ۔ اعظم خاں اور ان کے افراد خاندان کو مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے کی سزا مقدمات اور جیل کی صورت میں دی گئی ہے۔ اس قدر مقدمات درج ہیں کہ شائد ہی اعظم خاں کی رہائی ممکن ہوپائے۔ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی 2006 میں رام پور میں قائم کی گئی جسے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی مسلمہ حیثیت حاصل ہے۔ 2012 میں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ ہزاروں اقلیتی نوجوان یونیورسٹی میں عصری کورسس کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یوگی حکومت نے یونیورسٹی کے خلاف سازش کرتے ہوئے 40 میں 38 عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منہدم کرنے کی نوٹس دی ہے ۔ بی جے پی دراصل اعظم خاں سے ذاتی دشمنی کے تحت مسلمانوں کا مجموعی طور پر نقصان کرنا چاہتی ہیں۔ تعلیم سے مسلمانوں کو محروم رکھتے ہوئے ان کے مستقبل کو تاریک بنانے کی سازش ہے۔دوسری طرف ملعون مصنفہ تسلیمہ نسرین نے 20 سال بعد مغربی بنگال واپسی کا فیصلہ کیا ہے ۔ بنگلہ دیش سے فراری کے بعد تسلیمہ نسرین بنگال میں پناہ لی ہوئی تھی لیکن مسلمانوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے وہ ملک کے کسی گمنام علاقہ میں روپوش ہوچکی تھی۔ اب جبکہ مغربی بنگال میں بھگوا پرچم لہرا رہا ہے، لہذا تسلیمہ نسرین کو بنگال واپسی کا خیال آیا۔ واپسی ہی نہیں وہ یکم اگست کو کولکتہ میں ایک پروگرام میں حصہ لے گی۔ تسلیمہ نسرین کی طرح ہندوستان میں کئی گستاخ اور ملعون پیدا ہوچکے ہیں جو وقتاً فوقتاً اپنی تحریروں اور بیانات کے ذریعہ مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے ہیں۔ بی جے پی اور مودی حکومت نے آج تک ایک بھی گستاخ کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اسی دوران مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع کمال مولیٰ مسجد کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا تحفظ کیا ہے ۔ ایک ہزار سال قدیم اس مسجد کو 15 مئی 2026 کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد مندر میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت دی اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو عمارت سے چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بابری مسجد کی اراضی سپریم کورٹ کے ذریعہ حاصل کرنے کے بعد فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں۔ کاشی اور متھرا کے علاوہ مسلمانوں کی ہر تاریخی عمارت کے نیچے مندر تلاش کیا جارہا ہے۔ اب تو دارالعلوم دیوبند کے نیچے بھی مندر کی موجودگی کا دعویٰ ہے۔ ملک کے حالات پر عمران پرتاپ گڑھی نے کچھ یوں تبصرہ کیا ہے ؎
خود کو پہرے دار بنائے بیٹھا ہے
نفرت کا بازار سجائے بیٹھا ہے