اوقافی جائیدادوں پر قبضہ اور مسلمانوں سے وعدہ خلافی پر چیف منسٹر کا عدم اطمینان
حیدرآباد۔25۔ستمبر۔(سیاست نیوز) پارٹی تبدیل کرتے ہوئے سیاسی انحراف ثابت ہونے کے بعد نااہل قرار دیئے جانے والے سابق رکن اسمبلی ڈی ناگیندر کو کانگریس دوبارہ ٹکٹ دے گی!حلقہ اسمبلی خیریت آباد کے ضمنی انتخابات کی راہ ہموار ہونے کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے نتیجہ میں حلقہ اسمبلی خیریت آباد کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر اے ریونت ریڈی بی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے نااہل قرار دیئے جانے والے ڈی ناگیندر کو ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں اور انہیں دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لئے مسلمانوں میں پائی جانے والی ناراضگی کا حوالہ دیا جارہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ڈی ناگیندر کے راست یا بالواسطہ طور پر اوقافی جائیدادوں پر کئے جانے والے قبضہ جات اور مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کئے جانے کو بنیاد بناتے ہوئے کہا جارہاہے کہ کانگریس پارٹی بالخصوص چیف منسٹر اے ریونت ریڈی ڈی ناگیندر کو انتخابی میدان میں اتارنے کے حق میں نہیں ہیں ۔حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کے ضمنی انتخابات میں بھی چیف منسٹر نے محمد اظہر الدین کے بجائے اپنی پسند کے امیدوار نوین یادو کو میدان میں اتارتے ہوئے کامیابی کو یقینی بنایا تھا اور ان انتخابات میں ’چیف منسٹر‘ نے مجلس کی تائید حاصل کرتے ہوئے مسلم رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے میں کامیابی حاصل کی تھی حالانکہ حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز سے محمد اظہر الدین کے بجائے نوین یادو کو ٹکٹ دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اب چیف منسٹر اے ریونت ریڈی ڈی ناگیندر کو دوبارہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد سے میدان میں اتارنے کے حق میں نہیں ہیں لیکن ڈی ناگیندر اپنے قریبی حلقوں میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں وہ مجلس کی مدد سے ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ ڈی ناگیندر جن پر مہیشورم منڈل کے علاوہ ضلع رنگاریڈی میں کئی اوقافی جائیدادوں کے قبضہ کے الزامات ہیں ان کے مجلسی قیادت سے قریبی تعلقات ہونے کے سبب وہ پرامید ہیں کہ انہیں دوبارہ ٹکٹ حاصل ہوجائے گالیکن سیاسی حلقوں میں جاری قیاس آرائیوں کے مطابق چیف منسٹر اپنے قریبی رفیق روہن ریڈی کو کانگریس کا امیدوار بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں حالانکہ 2023 اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والی امیدوار محترمہ وجیہ ریڈی اپنی مضبوط دعویداری پیش کئے ہوئے ہیں اور ان کا کہناہے کہ وہ ڈی ناگیندر کے انتخاب کو چیالنج کئے ہوئے ہیں اور ان کی درخواست زیر دوراں ہے اسی لئے حلقہ اسمبلی خیریت آباد میں ضمنی انتخابات ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کریں گی اور ٹکٹ کے معاملہ میں کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی ۔کانگریس پارٹی میں بی آر ایس اراکین اسمبلی کی شمولیت کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا حلقہ اسمبلی خیریت آباد میں بھی پارٹی کو سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ بی آ رایس سے کانگریس امیدوارہ کو شکست دینے کے بعد کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے ڈی ناگیندر کو پارٹی میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔3/m/b