خیمہ بستیوں میں مقیم 90 فیصد پناہ گزین برقی سے محروم

   

لندن: عالمی یوم پناہ گزین کے موقع پرغیرسرکاری تنظیم الیکٹریشنزماورائے سرحد(ای ایس ایف) کے صدر ہروگوئٹ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں عارضی کیمپوں یا خیمہ بستیوں میں رہنے والے 90 فی صد سے زیادہ پناہ گزینوں کو بجلی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔اقوام متحدہ کے زیرانتظام عالمی یوم پناہ گزین ہر سال 20 جون کومنایا جاتا ہے۔اس موقع پردنیا بھر میں پناہ گزینوں کی طاقت ،ہمت کا جشن منا کران کی عزت افزائی کی جاتی ہے اور انھیں درپیش اہم مسائل کے بارے میں شعور اجاگر کیا جاتا ہے۔اس سال پناہ گزینوں کا عالمی دن ’جو بھی ہو‘ کے عنوان کے تحت منعقد کیا جارہا ہے۔ای ایس ایف کے صدرنے کہا کہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران میں انسانیت نے کئی حوالوں سے زبردست ترقی کی ہے، لوگ اب زیادہ امیر، صحت مند، طویل زندگی گزار رہے ہیں اور زیادہ مربوط اور تعلیم یافتہ ہیں۔اس پیش رفت کے باوجود آج دنیا میں پہلے سے کہیں زیادہ پناہ گزین موجودہیں۔فرانس میں قائم یہ غیرمنافع بخش تنظیم 1986 سے ہنگامی حالات میں بجلی کے مسائل حل کررہی ہے۔اس کا مقصد کمزور لوگوں کو بجلی اور پانی تک رسائی کی عدم مساوات سے بچانا ہے۔گوئٹ نے بتایاکہ اس وقت کیمپوں میں رہنے والے 90 فی صد سے زیادہ پناہ گزینوں کو بجلی تک بہت کم یا کوئی رسائی حاصل نہیں۔بجلی کی کمی کھانا پکانے، گرم رکھنے یا تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک چیلنج ہے جبکہ خواتین اور لڑکیوں کو خاص طور پراندھیرے میں ڈوبے کیمپوں میں کہیں زیادہ حفاظتی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کیمپ عام طور پر پناہ گزینوں کے لییرہائش کی عارضی شکل کے طور پر بنائے جاتے ہیں، جس کا مقصد انھیں ضروری امداد اور تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔تاہم گوئٹ نے کہا کہ اگرچہ پناہ گزین کیمپوں کا مقصد عارضی قیام گاہ ہے لیکن کسی پناہ گزین کا ایک پناہ گزین کیمپ میں رہنے کااوسط وقت 20 سال سے زیادہ ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان پناہ گزین کیمپوں میں روشنی کی کمی کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں، خاص طورپرخواتین اور بچوں کے لیے۔