نیویارک : منگل کو فوربز میگزین نے اطلاع دی ہے کہ داعش نے ڈالاس میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔میگزین نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات اور واٹس ایپ اکاؤنٹس کی نگرانی سے پتا چلا ہے کہ ’داعش‘ کی جانب سے بش کو قتل کرنے کے لیے حملہ جنگجوؤں کو امریکا منتقل کرنے کی کوشش کی تھی۔میگزین نے مزید کہا کہ بْش پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا ملزم 2020 سے امریکہ میں ہے۔ اس نیامریکا میں پناہ کی درخواست کی تھی جس پر فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔ اس نے امریکی حکام کو بتایا کہ وہ بش جونیئر کو قتل کرنا چاہتا ہے کیونکہ بش کے ہاتھ بے گناہ عراقیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔میگزین نے ’ایف بی آئی‘ کے ایک خفیہ ذریعے کے ساتھ بات چیت میں مشتبہ شخص کے حوالے سے کہا کہ وہ چار عراقی باشندوں کو عراق، ترکی، مصر اور ڈنمارک کے راستے امریکہ لانے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ان چاروں میں سے ایک کے پاس اسلحہ تھا۔ایف بی آئی کے مطابق امریکا میں موجود داعش کا شدت پسند نام نہاد “آئی ایس آئی ایس‘‘ کے وزیر خزانہ کا سیکرٹری تھا۔میگزین نے بیورو آف انویسٹی گیشن کے حوالے سے بتایا کہ مشتبہ شخص نے چاروں افراد کو عراق میں بعث پارٹی کے سابق ارکان قرار دیا جو موجودہ عراقی حکومت سے متفق نہیں تھے اور سیاسی جلاوطن تھے۔