درج فہرست قبائل سماج کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانا اہم مقصد
نئی دہلی۔ قومی درج فہرست ذات کمیشن (این سی ایس ٹی) نے آئندہ مالی سال میں درج فہرست ذات کے افراد کی فلاح وبہبود کے لئے مختص کئے گئے بجٹ (شیڈول ٹرائب کمپونینٹ) پر ایک بحث کا انعقاد کیا۔ کمیشن نے اتوار کو یہاں بتایا کہ مباحثے کے شرکا نے درج فہرست قبائل، قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے ایک موثر ڈھانچہ بنائے جانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ اس بجٹ کا استعمال ایسے موثرطریقہ سے کیا جائے تاکہ درج فہرست قبائل سماج کو مختلف اسکیموں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ مل سکے ۔ ہیڈکوارٹر میں ہوئے مباحثے میں مختلف سماجی تنظیموں، مختلف وزارتوں اور مختلف محکموں سے آئے نمائندوں نے حصہ لیا۔ سنٹر آف پالیسی ریسرچ اینڈ گورننس، نیشنل کمپین آن دلت ہیومن رائٹس، پی آر ایس لیجس لیٹیو ریسرچ، سنٹر فار بجٹ اینڈ گوورننس اکاونٹیبلیٹی نے بحث میں حصہ لیا۔مباحثے میں شامل وزارت تعلیم، صحت اور خاندانی فلاح وبہبود کی وزارت، قبائلی امور کی وزارت اور نیتی آیوگ نے مالی سال 2022-23 کے لئے طے بجٹ کی تفصیلات پیش کیں۔ اس میں بتایا گیا کہ کس مد میں کس طرح سے وہ بجٹ کا استعمال کریں گے اس کے لئے کیا حکمت عملی ان کے پاس ہے اور موجودہ وقت میں وہ کس طرح سے کام کررہے ہیں، اس کے ایک خاکہ پر اس دوران بحث ہوئی۔ اس مالی سال میں حکومت نے درج فہرست قبائل سماج کی ترقی کے لئے 87,548کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے ۔ گزشتہ برس یہ رقم 78,256کروڑ روپے تھی۔ اس برس گزشتہ سال کے مقابلے زیادہ بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ 41مرکزی وزارتوں کو یہ رقم مختلف مدوں میں درج فہرست ذاتوں کی ترقی اور فلاح کے لئے ان وزارتوں کو دی گئی ہے جس کا فائدہ مختلف اسکیموں کے ذریعہ درج فہرست ذات کے لوگوں کو دیا جائے گا۔ مباحثہ کا مقصد یہ تھا کہ درج فہرست ذات سماج کے لئے گزشتہ سال جو بجٹ مختص ہوا تھا، اس کا استعمال مختلف وزارتوں کی طرف سے کن پروگراموں اور کن اسکیموں کے ذریعہ درج فہرست ذاتوں کی فلاح وبہبود کے لئے کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ موجودہ مالی سال 2022-23کے لئے مختص بجٹ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیسے درج فہرست ذات سماج کی فلاح وبہبود کے لئے مختلف وزارتیں کریں گی اور اس پر بھی یہاں بات چیت ہوئی۔