بی جے پی کی آمرانہ پالیسی بے نقاب، اپوزیشن کا اتحاد بڑی کامیابی
حیدرآباد ۔ 18 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر و ایم ایل سی مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ 131 ویں دستوری ترمیم بل کی پارلیمنٹ میں شکست ہوجانے کو جمہوریت کی فتح قرار دیا اور کہا کہ اس سے بی جے پی کی آمرانہ سوچ بے نقاب ہوگئی۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے اس بل کو غیر سائنسی اور غیرقانونی طریقے سے لوک سبھا میں پیش کیا تھا جسے اپوزیشن اتحاد نے ناکام بنادیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی خواتین تحفظات بل کے نام پر حدبندی کو نافذ کرتے ہوئے جنوبی ہند کی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کرنا چاہتی تھی۔ تاہم کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس سیاسی چالبازی کو ناکام بنادیا۔ اس بل کے ذریعہ شمالی ہند کو زیادہ نشستیں دینے کی کوشش کی جارہی تھی۔ مہیش کمار گوڑ نے بی جے پی پر خواتین کے تحفظات کے معاملے میں دوہرا معیار بنانے کا بھی الزام عائد کیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ 2023ء میں منظور ہونے والے خواتین بل پر 2024ء کے انتخابات میں عمل کیوں نہیں کیا گیا اور کیوں خواتین کو 2029ء یا 2034ء تک انتظار کرنے کو کہا جارہا ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کانگریس حکومتوں نے ماضی میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے اہم اقدامات کئے ہیں جن میں 2010ء میں منموہن سنگھ حکومت کے دور میں راجیہ سبھا میں خواتین بل کی منظوری اور پی وی نرسمہاراؤ کے دور میں بلدیاتی اداروں میں خواتین کو تحفظات دینا شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کی 46 سالہ تاریخ میں اب تک ایک خاتون بھی صدر نہیں بنی جو اس کے رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریا کی جانب سے تلنگانہ کی تشکیل کو پاکستان کی تقسیم سے تشبیہہ دینے والے بیان پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اس پر بی جے پی قیادت کی خاموشی افسوسناک ہے۔ جنوبی ہند کا ملک کی تعمیر میں اہم رول رہا ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔2