تین افراد کو ریمانڈ کیا گیا ، نابالغ کو بچوں کی جیل منتقل کیا گیا ، بنڈی سنجے تک بھی پرچہ پہونچا
حیدرآباد ۔ 4 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ورنگل کے پولیس کمشنر رنگناتھ نے دسویں جماعت کے ہندی پرچہ سوالیہ افشاء ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف نقل نویسی کی حرکت تھی ۔ اس کے ذمہ دار نابالغ کو بچوں کی جیل روانہ کردیا گیا ۔ ساتھ ہی دیگر تین افراد کو گرفتار کرتے ہوئے ریمانڈ کردیا گیا ہے ۔ ہندی پرچہ کی تصویر لیتے ہوئے اس کو تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کے علاوہ حیدرآباد کے دیگر میڈیا ہاوزس کو بھی اس کی کاپیاں واٹس اپ پر شیئر کی گئی ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پولیس کمشنر نے بتایا کہ کملاپور امتحانی مرکز سے امتحانی پرچہ باہر آیا ہے ۔ ایک نابالغ لڑکے نے اپل میں رہنے والے اپنے دوست کی مدد کرنے کے لیے امتحانی مرکز کے پاس پہونچکر پرچہ سوالیہ کی فوٹو لیا ہے ۔ نابالغ لڑکا امتحانی مرکز کے پاس موجود درخت پر چڑھتے ہوئے روم نمبر 3 کی کھڑکی کے پاس موجود ایک طالب علم سے پرچہ سوالیہ لے کر اس کی فوٹو لی ۔ اس کے بعد اس تصویر کو شیوا گنیش نامی شخص کو روانہ کیا اس نے SSC 2019-20 واٹس اپ گروپ میں پوسٹ کیا ۔ نابالغ طالب علم نے صبح 9-45 کو تصویر لیا اور 9-50 بجے شیوا گنیش کو روانہ کیا ۔ اسی گروپ میں موجود ایک شخص اپنے قریبی رشتہ دار جو ماضی میں صحافت سے وابستہ تھا فی الحال کے ایم سی میں لیاب اسسٹنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے جی مہیش کو روانہ کیا ۔ اس نے ایک اور ٹی وی چینل میں کام کرنے والے بی پرشانت کو روانہ کیا اور اس نے فرینڈس گروپ میں شیئر کیا ۔ جس کے بعد پرچہ سوالیہ افشاء ہونے کی خبر وائرل ہوگئی ۔ پرشانت نے ضلع ورنگل میں ایس ایس سی ہندی سوالیہ پرچہ افشاء ہونے کی بریکنگ نیوز بنادی ۔ عوام اور طلبہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ساتھ ہی اس سوالیہ پرچہ کو تلنگانہ بی جے پی صدر بنڈی سنجے کے علاوہ حیدرآباد کے دیگر میڈیا گھرانوں کو بھی روانہ کیا۔۔ ن