نیویارک: امریکہ کی ریاست نیو یارک میں11 ہلاکتوں کی تفتیش بظاہر ختم ہو گئی تھی۔ اس بارے میں شکوک و شبہات موجود تھے کہ کیا اس قاتل کو کبھی گرفتار بھی کیا جا سکے گا جس نے خواتین کو قتل کرکے ان کی باقیات کو لانگ آئی لینڈ میں ساحلی پٹی کے دور دراز علاقوں میں پھینک دیا تھا۔پولیس نے البتہ اپنا کام جاری رکھا اور 12 برس کے بعد متاثرین کے سوگوار خاندانوں کو اس وقت قدرے راحت ملی جب حکام نے 59 سالہ آرکیٹیکٹ ریکس ہیورمن کی گرفتاری کا اعلان کیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریکس ہیورمن 11 میں سے کم از کم چار اموات کا ذمہ دار ہے۔اس ملزم کی گرفتاری نے مقتولین کے عزیزوں کو بھی مضطرب کر دیا ہے۔ان میں ایمی بروٹز شامل ہیں جن کی کزن میلیسا بارتھیلمی کی باقیات ایک دوسری عورت کی تلاش کے دوران اتفاقیہ طور پر سب سے پہلے ملی تھیں۔