دعاوں کے ذریعہ امواج بلا کو رد کرو

   

پروفیسر تنویر الدین خدانمائی
حیدرآباد :۔ 27 ۔ اپریل ( پریس نوٹ ) دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ دعا عبادتوں کا مغز ہے ، روزہ دوزخ سے ڈھال ہے اور اسلام کے پانچ ارکان میں تزکیہ نفس کا سب سے بڑا رکن ہے ۔ زکوۃ مال کو پاک کرتی اور اس کی حفاظت کرتی ہے ۔ حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا : زکوۃ کے ذریعہ مال کی حفاظت کرو ، صدقات کے ذریعہ اپنے بیماروں کا علاج کرو اور امواج بلا یعنی بلاوں کی موجوں کا مقابلہ دعاوں سے کرو ۔
پروفیسر ڈاکٹر سید محمد تنویز الدین خدا نمائی ڈائرکٹر مدرسہ صوفیہ و سابق صدر شعبہ فارسی عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ زکوۃ دے کر اپنے مال کی حفاظت کرنے کا شعور جاگ چکا ہے البتہ صدقات کے ذریعہ بیماروں کے علاج کرنے کا رواج اور حکم معاذ اللہ متروک ہونے کے درجہ میں آگیا ہے اسے پھر سے زندہ کرنا ضروری ہے ۔ زمینی اور آسمانی آفات و بلاوں کے دفع کرنے کیلئے دعاوں کا سہارا لینے کا رجحان بھی افسوس کہ کمزور ایمان کی علامت سمجھا جانے لگا ہے ۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ قرآن و حدیث اور آثار بزرگان سلف سے نابلد لوگ مشکل اوقات میں دعا کرنے کو ذمہ داریوں سے گریز کا نام دے رہے ہیں۔ حالانکہ اسلام کی اشاعت کا آغاز دعا اور دعوت سے ہوتا ہے ، یہ حضور علیہ السلام کی سنت ہے ۔ آج ساری دنیا دعاوں کی محتاج ہے خصوصا ہندوستان کے مسلمانوں کی آنکھیں آسمانی غیبی امداد کی منتظر ہیں ، لیکن مظلوم مسلمانوں کی زبانوں سے اللہ کی تسبیح وتہلیل اور دعا مضطر ، آہ سحر گاہ اور بے لوث و بے غرض دعاوں کے بغیر آسمانی امداد کیسے ممکن ہے ۔ ہندوستان میں ہماری سلامتی اور ملک میں امن و امان کی بحالی بغیر دعا کے ممکن نہیں ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی شناخت اور اسلام کی بقا کو موضوع بنا دیا گیا ہے ۔ اس مسئلہ کا حل کیل کانٹے سے ممکن نہیں ہے ۔ ایسے میں امت مسلمہ سے درد مندانہ پر خلوص درخواست ہے کہ ’’ دعاے حزب البحر ‘’ کے ورد کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنا ئیں ۔