دفاعی اخراجات اور عصری ہتھیاروں میں امریکہ کو سبقت

   

سالانہ 954 بلین ڈالر کا خرچ، چین اور روس کے ساتھ ہندوستان بھی شامل
حیدرآباد۔ 5 جولائی (سیاست نیوز) دنیا کے مختلف ممالک میں فوجی تنازعہ اور ٹکراؤ کے درمیان دفاعی ضرورتوں کے لئے بجٹ مختص کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دنیا میں قیام امن کے لئے نوبل انعام حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن ڈیفنس پر خرچ کے معاملہ میں امریکہ دنیا میں سرفہرست ہے۔ چین، روس اور جرمنی کے ساتھ ساتھ ہندوستان نے بھی دفاعی شعبہ کو مستحکم اور عصری ہتھیاروں سے لیس کرنے کے اقدامات کئے ہیں۔ امریکہ دفاعی شعبہ اور فوج کو عصری ہتھیاروں سے آراستہ کرنے کے لئے ہر سال 954 بلین ڈالر خرچ کررہا ہے۔ امریکہ کے فوجی تنازعات کسی نہ کسی ملک کے ساتھ ہمیشہ جاری رہتے ہیں۔ تازہ ترین صورتحال میں اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ دی ہے جو فی الوقت جنگ بندی کے تحت عارضی امن کی صورتحال ہے۔ چین میں ہر سال 336 بلین ڈالر فوجی طاقت میں اضافے پر خرچ
کئے جاتے ہیں اور وہ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ چین اور امریکہ کے دفاعی اخراجات کے معاملہ میں تقریباً 500 بلین ڈالر سے زائد کا فرق ہے۔ روس میں سالانہ دفاعی اخراجات 190 بلین ڈالر اور جرمنی میں 114 بلین ڈالر درج کئے گئے۔ ہندوستان دفاعی اخراجات میں 92.1 بلین ڈالر اخراجات کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ برطانیہ، یوکرین، سعودی عرب، فرانس اور جاپان کا شمار دفاعی اخراجات کے ٹاپ 10 ممالک میں ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر سرحدی اور فوجی تنازعات میں اضافے کے نتیجہ میں اہم ممالک کو اپنی فوج کو عصری بنانے پر توجہ مرکوز کرنی پڑی ہے۔ 1؍F