دفتر سیاست میں DMIT ٹسٹوں کا آغاز ، نونہالانِ ملت کیلئے خصوصی ڈسکاؤنٹ

   

بچوں کی خداداد صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے والی سائنس کا استعمال ، کورسیس کے تعین میں معاون

(پانچویں قسط )
حیدرآباد۔ 9 فروری (سیاست نیوز) اللہ عزوجل نے ہر انسان کو بے شمار صلاحیتوں کا مالک بنایا ہے لیکن انسان اپنی ان صلاحیتوں کا پوری طرح استعمال نہیں کرتا۔ اگر انسان قدرت کی عطا کردہ تمام صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرے تو پھر زندگی میں کامیابی و کامرانی ترقی و خوشحالی سے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ جہاں تک خداداد صلاحیتوں کا سوال ہے، اکثر ماں باپ یا سرپرست اپنے بچوں میں پائی جانے والی خداداد اور مخفی صلاحیتوں سے واقف نہیں رہتے چنانچہ اگر کسی بچہ کی دلچسپی سائنس میں ہو اور وہ ڈاکٹر یا سائنس داں بننے کا خواہاں ہوں تب ماں باپ اسے میاتھس کے شعبہ میں داخل کردیتے ہیں یا ایسے دوسرے کورسیس میں داخلے دلاتے ہیں جس کے بارے میں بچہ میں کوئی دلچسپی نہیں پائی جاتی۔ اس طرح اکثر لڑکے لڑکیاں کھیل کود میں دلچسپی رکھتے ہیں، انہیں دوسرے کورسیس کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے، نتیجہ میں وہ ناکام ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں طلباء و طالبات کے والدین سائنس و ٹیکنالوجی سے مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے بچہ ؍ بچی میں پائی جانے والی خداداد صلاحیتوں یا مخفی و تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اس کی دلچسپی شوق و ذوق کا پتہ چلانے کیلئے Dermoglyhic Multiple Intelligence Test (DMIT) کے ذریعہ اپنی اولاد کی تخلیقی و مخفی صلاحیتوں کا پتہ چلاکر ان کیلئے موزوں کورسیس کا تعین کرسکتے ہیں، ساتھ ہی آپ کو اپنے بچوں کی IQ، EQ، CQ اور AQ کا پتہ چلانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جن بچوں کو ان کے پسندیدہ کورسیس میں داخلے نہیں دلائے جاتے ، وہ مایوسی کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کا بیٹا یا بیٹی کھیل کود میں دلچسپی لیتے ہیں تو انہیں کھیل کود کے شعبہ میں داخل کیجئے۔ اکثر ماں باپ یہ کہتے ہیں کہ ان کے بچوں میں پڑھائی کو لے کر دلچسپی نہیں پائی جاتی ہوسکتا ہے کہ وہ کھیل کود میں بہتر مظاہرہ کرتے اور شہرت دولت دونوں حاصل کرتے، اس سلسلے میں کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ نوبل لاریٹ البرٹ آئنسٹائن کو کون نہیں جانتا، وہ بھی پڑھائی میں کمزور تھے۔ ذہین طلبہ میں اُن کا شمار نہیں ہوتا تھا اور اب دنیا کے سرفہرست ماہرین طبیعیات میں ان کا نام نمایاں ہے۔ اسی طرح وپرو کے صدرنشین عظیم پریم جی نے بھی کالج میں ہی تعلیم ترک کردی تھی۔ لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکر نے 1989ء میں ہی ہائی اسکول میں ہی تعلیم ترک کردی تھی۔ ریلائنس انڈسٹری کے بانی دھیرو بھائی امبانی کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں تھے، ورلڈ چمپین باکسر میری کوم نے بھی اپنے باکسنگ کیریئر کیلئے تعلیم ترک کردی تھی۔ اڈانی گروپ کے گوتم اڈانی بھی زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ 1983ء میں ہندوستان کو کرکٹ ورلڈ کپ دلانے والے کپل دیو بھی تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے تھے۔ ان کی شہرت کا یہ حال ہے کہ ان کا نام آئی سی سی کے کرکٹ ہال آف فیم میں شامل ہے۔ فلم اسٹار عامر خاں کبھی کالج نہیں گئے۔ مرکزی وزیر سمرتی ایرانی بھی کم پڑھی لکھی ہیں لیکن اگر آپ ان کی زندگیوں پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں نے خود میں پائی جانے والی خداداد صلاحیتوں کو پہچانا اور اسے استعمال میں لایا چنانچہ DMIT کے ذریعہ بھی آپ اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کا پتہ چلاکر ایسے کورسیس میں انہیں داخلے دلاسکتے ہیں جو ان کیلئے موزوں ہیں۔ انہیں ایک کامیاب تاجر صنعت کار ماہر تعلیم، سائنس داں، محققین، ڈاکٹر، انجینئر، ماہر نفسیات، آئی ٹی ماہر، مصنوعی ذہانت AI کے شعبہ کا ماہر، کرکٹ، ہاکی، فٹبال کھلاڑی باکسر کراٹیکر بناسکتے ہیں۔ روزنامہ سیاست نے نونہالان ملت کی ان صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے دفتر سیاست میں DMIT ٹسٹ کا اہتمام کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں Intellect Excellence Academy کے تعاون و اشتراک سے یہ ٹسٹ کئے جارہے ہیں۔ ہفتہ میں تین مرتبہ پیر، چہارشنبہ اور ہفتہ کو سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک طلباء و طالبات کے DMIT ٹسٹس کئے جائیں گے۔ 20 منٹ کا یہ عمل ہے اور 3 تا 7 یوم میں ٹسٹ کی رپورٹ فراہم کردی جائے گی۔ فی الوقت دفتر روزنامہ سیاست میں DMIT ٹسٹ کا آغاز کردیا گیا ہے۔
(سلسلہ جاری ہے)
اوما پرساد اگروال
9063076769, 9052403132