تمام درخواستیں دستوری بنچ سے رجوع ۔ اکٹوبر کے پہلے ہفتے میںل سماعت ۔ تازہ درخواستیں قبول کرنے سے انکار
نئی دہلی 16 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے جموں کشمیر پیپلز کانفرنس کی ایک درخواست کی سماعت کرنے سے اتفاق کرلیا ہے جس میں ریاست میں صدر راج کے نفاذ اور دستور ہند کے دفعہ 370 کو برخواست کرنے کو چیلنج کیا گیا ہے ۔ اس دفعہ سے ریاست کو خصوصی موقف حاصل تھا ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس ایس اے نذیر پر مشتمل بنچ پر آج کشمیر سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت ہو رہی تھی جس کے ساتھ جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کی درخواست کو بھی جوڑ دیا گیا ہے ۔ ان درخواستوں کو اب پانچ ججس والی دستوری بنچ سے رجوع کیا گیا ہے تاکہ صدارتی احکام کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جاسکے جن کے ذریعہ دفعہ 370 کو حذف کردیا گیا تھا ۔ تاہم بنچ نے دستور ہند کے دفعہ 370 کو حذف کرنے کے خلاف دوسری تازہ اور نئی درخواستوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ بنچ نے کہا کہ دفعہ 370 کے مسئلہ پر کئی درخواستوں کو یکجا نہیں کیا جائیگا ۔ بنچ نے کہا کہ جو لوگ اس مسئلہ پر عدالت سے رجوع ہونا چاہتے ہیں وہ اسی درخواست سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ بنچ نے کئی درخواستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم مقننہ کی کارروائیوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تمام درخواستوں کو اب دستوری بنچ سے رجوع کیا گیا ہے اور ان پر آئندہ سماعت ماہ اکٹوبر کے پہلے ہفتے میں ہوگی ۔ جموںو کشمیر پیپلز کانفرنس کی جانب سے عدالت میںپیش ہونے والے وکیل نے ان کی درخواست کو قبول کرنے کی استدعا کی تو عدالت نے کہا کہ انہیں عدالت سے پہلے ہی رجوع ہونا چاہئے تھا ۔ جے کے پی سی نے اپنی درخواست میں مرکزی حکومت نے کے ان فیصلوں کو چیلنج کیا ہے جن کے تحت جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کیا گیا ہے ‘ ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا گیا ہے ۔ اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اس سلسلہ میں صدارتی احکام اور تنظیم جدید قانون کو غیر دستوری قرار دے کر کالعدم کردیا جائے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل نیشنل کانفرنس نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے اقدام کو چیلنج کیا تھا ۔ نیشنل کانفرنس کی درخواست محمد اکبر لون اور جسٹس حسنین مسعودی نے دائر کی ہیں۔ یہ دونوں نیشنل کانفرنس کے لوک سبھا ارکان ہیں۔ محمد اکبر لون جموں و کشمیر اسمبلی کے سابق اسپیکر ہیں جبکہ جسٹس حسنین مسعودی جموں و کشمیر ہائیکورٹ کے سبکدوش جج ہیں۔ جسٹس مسعودی نے 2015 میں فیصلہ دیا تھا کہ دفعہ 370 دستور کا مستقل جز ہے ۔ جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ریاست کے گورنر نے ساری قوم کو اس تعلق سے اندھیرے میں رکھا ہے ۔ ملک کو اس طرح کے کسی تباہ کن اقدام سے واقف نہیں کروایا گیا اور یہ فیصلہ ریاست کے مفادات کے مغائر ہے ۔ پارٹی نے جموں و کشمیر تنظیم جدید قانون کو بھی چیلنج کیا ہے جسے پارلیمنٹ میں منظوری دی گئی تھی ۔ کہا گیا ہے کہ اس سے ساری ریاست میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا ۔