نیویارک : بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے ایک اندازیکے مطابق ، 2022 تک دنیا بھر میں بچوں کی ایک ریکارڈ تعداد ، چار کروڑ 33 لاکھ، جبری نقل مکانی کی زندگی گزار رہی تھی جن میں سے بیشتر نے اپنا پورا بچپن اس حالت میں گزارا۔ گزشتہ دہائی میں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونے والے بچوں کی تعداد دوگنی ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں پناہ گزینوں اور اندرون ملک بے گھر ہونے والے بچوں کے تحفظ کی کوششیں متاثر ہوئیں۔ یوکرین کی جنگ نے 20 لاکھ سے زیادہ یوکرینی بچوں کو ملک چھوڑنے اور دس لاکھ سے زیادہ بچوں کو اندرون ملک بے گھر ہونے پر مجبور کیا۔ یونیسیف کی ایکزیکٹیو ڈائرکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ ایک عشرے سیزیادہ عرصے سے اپنے گھروں سے مجبوراً نقل مکانی کرنیوالے بچوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور ان کے لیے عالمی سطح پر امدادی کوششیں بدستور ناکافی ہیں۔ اس اضافہ کی وجہ دنیا بھر میں تنازعوں ، بحرانوں اور آب و ہوا کے سانحوں میں اضافہ ہے۔