دنیا بھر میں منکی پاکس بیماری کا پھیلاؤ ۔ عالمی ادارہ صحت دوبارہ چوکس

   

جملہ مریضوں کی تعداد 100 سے تجاوز ۔ مغربی ممالک میں زیادہ پھیلاؤ ۔ احتیاط پر زور
حیدرآباد 22 مئی (سیاست نیوز) دنیا میں کورونا مریضوں کی تعداد میں پھر اضافہ کے دوران منکی پاکس بیماری نے ڈبلیو ایچ او کو دوبارہ چوکسی پر مجبور کردیا ہے ۔ منکی پاکس مریضوں کی دنیا میں تعداد 100 سے تجاوز کرجانے کے بعد عالمی ادارہ ٔ صحت کے مطابق 14 ممالک میں اس مرض کی نشاندہی ہوچکی ہے ۔یہ جائزہ لیا جا رہاہے جن ممالک میں منکی پاکس نہیں ہیں ان میں اس کے پھیلاؤکے خدشات کتنے ہیں۔ کہا جا رہاہے کہ مریضوں میں اعضاء شکنی ‘ بے چینی کی کیفیت کے علاوہ بخار اور دیگر عوارض کے ساتھ چیچک کے داغ پیدا ہونے لگتے ہیں۔ یوروپ کی تحقیق میں کہا گیا کہ جن افراد کو منکی پاکس کی توثیق ہوئی ان میں ایسے افراد ہیں جو ہم جنس پرستی کا شکار ہیں اور ان میں اکثر تعداد مردوں کی ہے لیکن یوروپی ادارہ ٔ صحت کی جانب سے توثیق نہیں کی گئی کہ یہ بیماری جنسی تعلقات سے دوسروں میں منتقل ہونے والی ہے ۔ ماہرین وبائی امراض کے مطابق منکی پاکس وباء کی شکل اختیار کرنے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتی ہے اور بیشتر چیچک کے زمرہ والی بیماریاں انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی طاقت رکھتی ہیں۔ منکی پاکس کوئی نئی بیماری نہیں ہے لیکن حالیہ عرصہ میں اچانک مختلف ممالک میں اس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ نے عالمی ادارۂ صحت کو چوکنا کردیا اور امریکی اداروں سے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانے لگی ہیں۔ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں جہاں صفائی انتظامات بہتر ہیں ان میں بھی مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ اس بیماری کا تعلق افریقہ سے ہے ۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ صفائی و ‘ ماحولیات کو بہتر بنانے اور اطراف کچرے کے انبار نہ رہیں تو وبائی امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے اسی لئے ان سے بچنے صفائی کو ترجیح دی جانی چاہئے۔