’دوستوں کو ملک کی دولت سونپنا ہی مودی حکومت کی اقتصادی پالیسی ‘

   

ملک میں 40 فیصد نوجوان گریجویٹ بیروزگار ہیں، سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر ملکارجن کھرگے کا پوسٹ

نئی دہلی،یکم ستمبر (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے معیشت کے سلسلے میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کونشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کا جشن منا رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی بے روزگاری، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے مسائل سے پریشان ہے اور اس کیلئے اس حکومت میں کچھ نہیں بدلا ہے ۔ کھرگے نے منگل کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر لکھی ایک پوسٹ میں کہا کہ تبدیلی کی بات کرنے والی مودی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ عوام سے جھوٹ بولنے کے علاوہ بی جے پی کے اقتدار میں کچھ نہیں بدلا ہے ۔ عام لوگ بے انتہا بے روزگاری، ناقابلِ برداشت مہنگائی اور بے لگام عدم مساوات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں ۔ کانگریس صدر نے کہا کہ مودی ملک میں جی ڈی پی کے اضافے کا جشن منانے کی بات کہہ رہے ہیں، لیکن عام آدمی کے پاس ایسی خوشی منانے کی سہولت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں پر تین ‘یو’-بے انتہا بے روزگاری، ناقابلِ برداشت مہنگائی اور بے لگام عدم مساوات کا بوجھ ہے اور اس کیلئے وزیرِ اعظم ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری 50 سال کی بلند ترین سطح پر ہے اور 40 فیصد نوجوان گریجویٹ بے روزگار ہیں۔ جولائی 2026 میں 15 سے 29 سال کی عمر کے ہر چھ میں سے ایک نوجوان بے روزگار تھا؛ انہوں نے کہا کہ ہر سال دو کروڑ روزگار دینے کا وعدہ اب ٹوٹ چکا ہے ۔ کانگریسی صدر نے کہا کہ خردہ مہنگائی 19 مہینے کی بلند ترین سطح پر ہے ۔ چینی، پیاز، ٹماٹر، دال، خوردنی تیل، چاول اور دودھ جیسی روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہوئی ہیں۔ پیٹرول، ڈیزل، رسوئی گیس اور سی این جی بھی عام لوگوں کیلئے مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متوسط طبقے کے خاندان کسی طرح گزارا کر رہے ہیں، جبکہ غریبوں نے امید چھوڑ دی ہے ۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ ملک میں اقتصادی نابرابری برطانوی حکومت کے دور سے بھی بدتر صورتحال میں پہنچ گئی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سب سے اوپر کے ایک فیصد لوگوں کے پاس ہندوستان کی کل املاک کا 40 فیصد حصہ ہے ، جبکہ نیچے کے 50 فیصد لوگ صرف 15 فیصد املاک پر انحصار کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں غریبوں سے امیروں کی طرف املاک کی سب سے بڑی منتقلی کو فروغ دیا ہے ۔

انہوں نے حکومت پر ‘کرونی کیپٹلزم’ کو اپنی واحد اقتصادی پالیسی بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے کمپنیوں کے 16 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے قرضے رائٹ آف (بٹے کھاتے ) کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 22,006 کروڑ روپے کے منظور شدہ مطالبات کے مقابلے قرض دہندگان کو صرف 6.5 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی، یعنی 99.97 فیصد کی ‘ہیئر کٹ’ یعنی قرض کی قدر میں کمی ہوئی۔