دونوں شہروں میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز، صدر مجلس اسدالدین اویسی کا عثمان باغ و بنڈلہ گوڑہ میں دورہ، عوام سے ملاقات

   

حیدرآباد۔12اپریل (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میں ماہ رمضان المبارک کے اختتام اور عید منائے جانے کے فوری بعد انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے اور عام انتخابات ریاست تلنگانہ میں چوتھے مرحلہ میں ہونے کے باوجود ابھی سے دونوں شہروں میں انتخابی سرگرمیوں کے آغاز کے سلسلہ میں اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔صدر مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ بیرسٹراسدالدین اویسی نے آج حلقہ اسمبلی بہادر پورہ کے علاقوں عثمان باغ اور بندلہ گوڑہ کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں میں پیدل دورہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقات کی اور انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ پارلیمانی حلقہ حیدرآباد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوارہ مادھوی لتا اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ دو یوم میں مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے جلسہ حالات حاضرہ کے عنوان سے انتخابی جلسوں کے انعقاد کا سلسلہ بھی شرو ع کردیا جائے گا۔شہر میں رمضان المبارک کی گہما گہمی کے سبب انتخابی ماحول نظر نہیں آرہا تھا جبکہ ریاست تلنگانہ کے حلقہ جات لوک سبھا میں رائے دہی کیلئے ابھی محض ایک ماہ ہی باقی رہ گیا ہے لیکن اب جبکہ رمضان المبارک اختتام کو پہنچ چکا ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم میں شدت پیدا کئے جانے کا امکان ہے۔تلنگانہ کے حلقہ جات لوک سبھا میں جہاں چوتھے مرحلہ میں رائے دہی ہوگی جو کہ 13 مئی کو منعقد ہونے جا رہی ہے۔حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کے علاوہ سکندرآباد و ملکا جگری میں بھی اب تک انتخابی مہم کا عملی طور پر آغاز نہیں ہوا ہے لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ آئندہ دو یوم کے دوران تمام حلقہ جات لوک سبھا میں انتخابی مہم شروع کردی جائے گی ۔ریاست میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان راست مقابلہ کی بات کہی جا رہی ہے جبکہ بھارت راشٹرسمیتی کے قائدین کا دعویٰ ہے کہ وہ بھی مقابلہ میں شامل ہیں جبکہ کسی بھی سیاسی جماعت نے اب تک شہری علاقوں میں انتخابی مہم شروع نہیں کی تھی بلکہ اپنی انتخابی مہم کو ذرائع ابلاغ پر جاری کئے جانے والے بیانات تک محدود رکھا ہوا تھا۔پارلیمانی حلقہ حیدرآباد میں بھی انتخابی مہم میں شدت پیدا ہونے کے سلسلہ میں سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ کانگریس کی جانب سے امیدوار کے اعلان کے بعد ہی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آیا پارلیمانی حلقہ حیدرآباد میں سہ رخی مقابلہ ہوگا یا محض مجلس اور بی جے پی کے درمیان روایتی مقابلہ آرائی ہوگی جبکہ بی جے پی امیدوارہ اپنی انتخابی مہم سے کافی پر امید ہے ۔3