دونوں شہروں کے بیشتر کالجس میں فائر سیفٹی کے جعلی این او سی

   

حیڈرا اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی تحقیقات میں انکشاف، کالج انتظامیہ سے لاکھوں روپیوں کی وصولی کے ذریعہ اسناد کی اجرائی
حیدرآباد۔16۔اگسٹ(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے بیشتر کالجس کی جانب سے داخل کئے گئے فائر سیفٹی NOC جعلی ہیں!گذشتہ ہفتہ منظر عام پر آئے فرضی و جعلی این او سی اسکام پر مکمل خاموشی اختیار کئے جانے کے سلسلہ میں کی جانے والی تحقیقات کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے بیشتر خانگی جونیئر کالجس کی جانب سے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ میں داخل کئے گئے این او سی جعلی ہیں اور ان جعلی این او سی کی بنیاد پر ہی بیشتر کالجس مسلمہ حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ابتداء میں کالجس کی عمارتوں کو فائر سیفٹی این او سی کی اجرائی کے سلسلہ میں ’حیڈرا‘ کی جانب سے جاری کئے گئے این او سی کے متعلق بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے عہدیداروں نے تفصیلات حاصل کرنے کے لئے ان این او سی کو ’حیڈرا‘ کے دفتر روانہ کیا تھا اور تحقیق و تنقیح کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ این او سی جو بورڈ آف انٹرمیڈیٹ میں داخل کئے گئے ہیں وہ جعلی ہیں اوران پر کمشنر ’حیڈرا‘ اے وی رنگاناتھ کے جعلی دستخط کئے گئے ہیں ۔ مذکورہ جعلی این اوسی کی نشاندہی کے بعد ’حیڈرا‘ اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے عہدیداروں نے تمام این او سی کی مکمل جانچ کا فیصلہ کرتے ہوئے کالجس کی جانب سے داخل کئے جانے والے این او سی کی تنقیح کا آغاز کیا ہے اور اس تحقیق کے دوران ہونے والے انکشافات کے مطابق آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں موجود بیشترجونیئر کالجس کے این او سی فرضی و جعلی پائے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم بالخصوص بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اور ’حیڈرا‘ نے اس معاملہ میں کئی عہدیداروں کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرنی شروع کردی ہے اور کہا جارہاہے کہ جونیئر کالجس انتظامیہ کی جانب سے بھاری رشوت اداکرتے ہوئے حاصل کئے گئے جعلی این او سی کا معاملہ کوئی معمولی اسکام نہیں ہے بلکہ یہ منظم ریاکٹ ہے جو کئی برسوں سے چلایا جا رہاہے ۔ خانگی کالجس کے انتظامیہ نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ فائر سیفٹی این او سی جو انہیں حاصل ہوتا ہے وہ رشوت کی بنیاد پر ہی جاری کیا جاتاہے لیکن وہ فرضی یا جعلی ہوتا ہے اس بات سے وہ لاعلم ہیں ۔ محکمہ فائر سیفٹی کے عہدیداروں نے بتایا کہ فائر سیفٹی این او سی کی اجرائی کے لئے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں اور قواعد ہیں ان کے مطابق بہت کم عمارتیں ایسی ہیں جہاں ان تمام قواعد و رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری ممکن ہوسکے ۔ بتایا جاتا ہے کہ فائر سیفٹی کے اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے تعمیر کی گئی عمارتوں میں بھی اسکول اور کالجس چلائے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں فائر سیفٹی این او سی جاری کئے جارہے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک ہے ۔ جونیئر کالجس کو جاری کئے جانے والے جعلی این او سی کے معاملہ میں ’حیڈرا‘ اور پولیس کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے شعبہ فائر سیفٹی کے عہدیداروں سے بھی تفصیلات حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ جی ایچ ایم سی میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کے اس ریاکٹ میں ملوث ہونے کے متعلق تفصیلات حاصل کی جاسکیں۔3