دو برقی پراجکٹس اور برقی خریدی معاہدہ پر عدالتی تحقیقات کا اعلان

   

ہزاروں کروڑ کا کرپشن، چھتیس گڑھ سے معاہدہ میں بے قاعدگیاں ، اسمبلی میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کا بیان
حیدرآباد 21۔ڈسمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے چھتیس گڑھ سے برقی خریدی کے معاہدہ اور سابق بی آر ایس حکومت کی جانب سے بھدرادری و یادادری تھرمل پاور پلانٹس کی تعمیر کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں کسانوں کو 24 گھنٹے برقی سربراہی کی کل جماعتی حقائق کا پتہ چلانے والی کمیٹی جانچ کریگی۔ برقی صورتحال پر مباحث کے دوران ریونت ریڈی نے مداخلت کرکے سابق بی آر ایس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ سے برقی خریدی معاہدہ میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔ ٹنڈر طلب کرنے کے بجائے نامنیشن کی بنیاد پر معاہدہ کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ سابق حکومت میں کانگریس ارکان اسمبلی نے جب معاہدہ پر سوال اٹھایا تو انہیں مارشلس سے ایوان کے باہر کر دیا گیا ۔ چیف منسٹر نے دعویٰ کیا کہ چھتیس گڑھ سے 1000 میگاواٹ برقی سربراہی معاہدہ میں بے قاعدگیوں کے سبب حکومت پر 1362 کروڑ کا اضافی بوجھ عائد ہوا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس حکومت نے یادادری تھرمل پاور پلانٹ کی تعمیر کیلئے ایک اذکار رفتہ کمپنی سے معاہدہ کیا جو تعمیر کی اہلیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے بھدرادری تھرمل پاور پراجکٹ میں ہزاروں کروڑ کا کرپشن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹس و برقی خریدی معاہدات میں شفافیت نہیں برتی گئی لہذا حکومت عدالتی تحقیقات کا اعلان کرتی ہے۔ انہوں نے جگدیش ریڈی کی جانب سے تحقیقات کے چیلنج کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ جگدیش ریڈی نے حقائق کا پتہ چلانے جو پیشکش کیا ہے ، اس کے تحت عدالتی تحقیقات کرائی جائینگی ۔ چیف منسٹر نے یادادری اور بھدرادری پراجکٹس میں بے قاعدگیوں کی تفصیلات بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت میں زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے برقی سربراہ نہیں کی گئی ۔ سب اسٹیشنوں کے ریکارڈ کے مطابق 8 تا 12 گھنٹے سربراہ کی گئی۔ کانگریس احتجاج کے بعد سب اسٹیشنوں کے ریکارڈس کو غائب کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے الیکٹرسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سربراہ کو حکومت کی تشکیل کے بعد غیر اہم پوسٹنگ دی گئی۔ ترقی کے بجائے تنزلی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بھدرادری پراجکٹ کی دو سال میں تکمیل کا اعلان کیا گیا تھا لیکن 7 برس میں تکمیل نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ پر 35 ہزار کروڑ خرچ کرنے کے باوجود ایک میگاواٹ برقی تیار نہیں کی گئی۔ 24 گھنٹے برقی سربراہی کے نام پر کسانوں کو گمراہ کیا گیا۔ برقی صورتحال پر ایوان میں گرما گرم مباحث ہوئے۔ بی آر ایس رکن جگدیش ریڈی کی بحث کے دوران وزراء بھٹی وکرمارکا ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی و ڈی سریدھر بابو نے مداخلت کرکے بی آر ایس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس ارکان جگدیش ریڈی کی تقریر میں بار بار مداخلت کر رہے تھے۔