مودی کو پٹرول، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں پر چائے پر چرچا منعقد کرنے کے ٹی آر کا مشورہ
حیدرآباد۔/7 اپریل ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کی جانب سے دھان خریدنے کے مطالبہ پر تمام ضلع ہیڈکوارٹرس پر دھرنے منظم کئے گئے جس کی ریاستی وزراء نے قیادت کی۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی ار نے بی جے پی کو مرکز میں اقتدار سے بیدخل کرنے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ ضلع راجنا سرسلہ میں احتجاج کی کے ٹی آر نے قیادت کی ۔ سدی پیٹ میں وزیر صحت ہریش راؤ، جنگاؤں میں وزیر پنچایت راج ای دیاکر راؤ، سنگاریڈی میں وزیر سنیما ٹو گرافی ٹی سرینواس یادو ، نظام آباد میں وزیر وی پرشانت ریڈی ، محبوب نگر میں وزیر ستیہ وتی راتھوڑ ، نلگنڈہ میں وزراء جگدیش ریڈی، محمد محمود علی ، نرمل میں اندرا کرن ریڈی ، ضلع ونپرتی میں نرنجن ریڈی کے علاوہ دیگر اضلاع میں منعقدہ احتجاج میں وزراء، ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ ، ارکان کونسل کے علاوہ دوسرے قائدین نے شرکت کی۔ کے ٹی آر نے مرکزی وزیر پیوش گوئل پر تلنگانہ عوام کی توہین کا الزام عائد کیا۔ چائے پر چرچا کے نام پر اقتدار میں آنے والی بی جے پی کو پٹرول ، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ پر چائے پر چرچا کا اہتمام کرنے کا مشورہ دیا۔ تلنگانہ دھان کی خریدی کے مسئلہ پر سوتیلا سلوک کرنے کا مرکز پر الزام عائد کیا۔ تلنگانہ بی جے پی قائدین کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ گلی اور دہلی میں الگ باتیں کرتے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ 8 سال میں پکوان گیس کی قیمت بڑھ کر 1000 روپئے ہوگئی۔ پٹرول کی قیمت فی لیٹر 120روپئے اور ڈیزل کی قیمت 104 روپئے ہوگئی۔ سدی پیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر فینانس نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کیلئے احتجاج کرکے کامیابی حاصل کی گئی ۔ اب کسانوں کے مسائل پر احتجاج کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی پرائیویٹ کمپنی کے سی ای او کی طرح کام کررہے ہیں۔ اچھے دن کا خواب دکھا کر مودی نے مرنے کے دن لائے ہیں۔ ن