سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر : ملزمین کی برات کو سپریم کورٹ میں چیلنج

,

   

چھوٹے بھائی نایاب الدین شیخ نے درخواست دائر کی ۔ ملزمین میں 21 پولیس اہلکار شامل
ممبئی، 24 اگست ( ایجنسیز) سہراب الدین شیخ، ان کی اہلیہ کوثر بی اور ساتھی تلسی رام پرجاپتی کی مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں ہلاکت کے معاملے میں 22 ملزمان کی براء ت کے خلاف اب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے۔ سہراب الدین شیخ کے چھوٹے بھائی نایاب الدین شیخ نے بمبئی ہائی کورٹ کے 7 مئی 2026 کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔نایاب الدین شیخ کی درخواست میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں عدالت نے دسمبر 2018 کے ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھ کر تمام 22 ملزمان کی براء ت کے خلاف اپیلیں مسترد کردی تھیں۔اس معاملے میں بری 22 ملزمان میں 21 پولیس اہلکار شامل ہیں، جن کا تعلق گجرات، راجستھان اور آندھرا پردیش سے ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شری چندرشیکھر اور جسٹس گوتم اے انکھڈ کی دو رکنی بنچ نے 7 مئی 2026 کو سہراب الدین کے بھائیوں رباب الدین اور نایاب الدین کی اپیلیں خارج کردی تھیں۔ استغاثہ کے مطابق 2005 میں سہراب الدین شیخ، اہلیہ کوثر بی اور ساتھی تلسی رام پرجاپتی کو حیدرآباد سے مہاراشٹر جانے والی بس سے پولیس اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔سہراب الدین کو احمد آباد کے قریب مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا گیا، جبکہ کوثر بی کی تین دن بعد موت ہوگئی۔ تلسی رام پرجاپتی کو 2006 میں گجرات ۔ راجستھان سرحد کے قریب مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاک کیا گیا۔ بعد میں دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑکر مشترکہ طور پر چلایا گیا۔