سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی مالی مدد سے پایا نیا حوصلہ۔ متاثرہ تاجر محمد ممتاز کا اظہارِ خیال
حیدرآباد: دہلی فسادات نے دیکھتے ہی دیکھتے امیر کو غریب بنادیا۔کل تک جو دکانات و مکانات کے مالک تھے ان لوگوں کا سب کچھ تباہ و برباد ہوگیا اور فسادات نے انہیں کنگال بنادیا۔ خاص طور پر مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی و مالی نقصانات برداشت کرنا پڑا۔ ان کی تباہی کا حکومتوں سے لیکر پولیس سب کے سب تماشہ دیکھ رہے تھے لیکن ہمدردان ملت بالخصوص حیدرآبادی شہری اُن فسادات‘ تباہی و بربادی کی داستان پر تڑپ اُٹھے اور پھر ان کی ہر لحاظ سے مدد کا بیڑا اُٹھایا۔ ملک کے کسی بھی مقام پر مسلم کش فسادات ہوں یا پھر آفات سماوی میں مسلمانوں کی تباہی ، روز نامہ سیاست کا ملت فنڈ اور اس کے ساتھ فیض عام ٹرسٹ فوری حرکت میں آتے ہیں۔ اسی وجہ سے سارے ہندوستان میں یہ مثل مشہور ہے کہ ملک کے مظلوموں و کمزوروں کیلئے حیدرآبادیوں کے دل دھڑکتے ہیں۔ قدرت نے حیدرآبادیوں کو وہ سینے عطا کئے ہیں جن میں اپنے مظلوم بھائی کی مدد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ چنانچہ دہلی فسادات کے دوران جب گھروںاور دکانات کو جلایا گیا ، لوٹا گیا تب سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ نے آگے بڑھ کر ان متاثرین فسادات کی مدد کا فیصلہ کیا۔ ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں اور سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین کی اپیلیں کارگر ثابت ہوئیں پھر دیکھتے ہی دیکھتے بے شمار متاثرین کی مدد کی راہ ہموار ہوئی ، اُن میں محمد ممتاز ولد محمد ظہیر بھی شامل ہیں جو ایک رسٹورنٹ چلایا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ کھجوری خاص اکسٹنشن دہلی کی گلی نمبر 5 کے ایک مکان کی دوسری منزل میں رہتے ہیں۔ جس وقت فسادات شروع ہوئے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کا سب کچھ برباد ہوجائے گا۔ ممتاز کے مطابق انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ لوگ ہی انھیں برباد کردیں گے جن کے ساتھ برسوں سے وہ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ فسادات کے دوران اشرار نے محمد ممتاز کی رسٹورنٹ اور گھر دونوں کو آگ لگادی جس میں سب کچھ جلکر خاکستر ہوگیا۔ صرف ان کی زندگیاں بچ گئیں تھیں۔ ان سنگین حالات میں سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ نے محمد ممتاز کی مدد کی تاہم جس مقام پر رسٹورنٹ تھی اب اس کے مالک نے وہ جگہ کرایہ پر دینے سے انکار کردیا۔ اسی دوران محمد ممتاز کی ماں شدید بیمار ہوئیں اور اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ ان کے علاج پر بھی بقول ممتاز 4 لاکھ روپئے کے مصارف آئے ، ان حالات میں جو رقم مالی امداد کے طور پر ملی تھی صرف ہوگئی۔ یہ اچھاہوا کہ انہوں نے رسٹورنٹ کیلئے کچھ سمان خرید کر رکھ لیا تھا ۔ یہ خاندان ہنوز جلے ہوئے مکانات میں مقیم ہے ۔ ممتاز‘ چھوٹے پیمانے پر ہی کاروبار شروع کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ وہ انتہائی نازک موقع پر مالی مدد کیلئے سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کے ساتھ ساتھ شہریان حیدرآباد کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فسادات کے متاثرین ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں ، سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین اور حیدرآبادیوں کے حق میں دعائے خیر کرت