دہلی میں گجرات پولیس کی تعیناتی پر اروند کجریوال کی تنقید ‘ اندیشوں کا اظہار

   

اسمبلی انتخابات کیلئے سکیوریٹی اہلکاروں کی 220 کمپنیاں طلب کی گئی ہیں۔ کئی ریاستوں کی پولیس کی آمد۔ دہلی پولیس کے ذرائع کی وضاحت

نئی دہلی : سابق چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کی جانب سے دعوی کئے جانے کے بعد کہ الیکشن کمیشن نے دہلی میں پنجاب پولیس سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے گجرات پولیس متعین کردی ہے ‘ دہلی پولیس کے اعلی ذرائع نے اس پر وضاحت کی ہے ۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ دہلی میں اسمبلی انتخابات کے دوران تعیناتی کیلئے سکیوریٹی اہلکاروں کی 220 کمپنیاں پہونچی ہیں جن میں سی آر پی ایف ‘ بی ایس ایف ‘ ایس ایس بی ‘ آئی ٹی بی پی ‘ سی آئی ایس ایف اور ار پی ایف بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ راجستھان ‘ بہار ‘ چھتیس گڑھ ‘ گجرات ‘ جھارکھنڈ ‘ مہاراشٹرا ‘ مدھیہ پردیش ‘ کرناٹک ‘ چندی گڑھ اور ہماچل پردیش کی 70 کمپنیاںبھی شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں تین مراحل میں دہلی پہونچی ہیں اور اسی کے تحت گجرات پولیس کی بھی سات سے آٹھ کمپنیاں متعین کی گئی ہیں۔ ذرائع نے وضاحت کی کہ دہلی میں 5 فبروری کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کیلئے 250 کمپنیوں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ یہ کمپنیاں فلائنگ اسکواڈ ‘ بین ریاستی سرحد پر چیکنگ ‘ علاقہ میں تعیناتی اور حساس و اہم پولنگ اسٹیشنوں پر سکیوریٹی کیلئے متعین کی جائیں گی ۔ یہ کوئیک ریسپاس ٹیمیں ہونگی ۔ ذرائع نے کہا کہ پنجاب ‘ ہریانہ اور اترپردیش پولیس سے بھی دستے منگوائے گئے تھے تاہم چونکہ وہاں ابھی کسانوں کا احتجاج چل رہا ہے اس لئے ان کے جواب کا انتظار ہے ۔ یو پی میں پریاگ راج میں کمبھ میلہ بھی چل رہا ہے ۔ عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال نے گجرات کی اسٹیٹ ریزرو پولیس فورس کی آٹھ کمپنیوں کی تعیناتی پر سوال کیا تھا ۔ یہ کمپنیاں 13 جنوری کو دہلی پہونچی تھیں جو الیکشن کمیشن کے حکم پر آئی تھیں۔ ایس آر پی ایف بچاؤ کے کمانڈنٹ تیجس پٹیل نے یہ وضاحت کی ۔ پنجاب کے ڈائرکٹر جنرل پولیس گورو یادو نے کہا کہ ریاستی پولیس کا جو عملہ اروند کجریوال کی سکیوریٹی کیلئے متعین کیا گیا تھا اسے دہلی پولیس اور الیکشن کمیشن کی ہدایات کے بعد ہٹالیا گیا ہے ۔ گجرات کے وزیر داخلہ ہرش سنگھوی نے تاہم کجریوال پر جوابی تنقید میں کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے قوانین اور رولس سے واقف نہیںہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیںاب سمجھ میں آیا ہے کہ لوگ کجریوال کو دھوکہ باز کیوں کہتے ہیں۔ انہیں حیرت ہے کہ سابق چیف منسٹر رہتے ہوئے بھی کجریوال کو الیکشن کمیشن کے قوانین کا علم نہیںہے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے دہلی انتخابات کیلئے کئی ریاستوں سے پولیس دستوں کو طلب کیا تھا اور کئی ریاستوں سے یہ دستے وہاں بھیجے گئے ۔ دہلی میں 5 فبروری کو اسمبلی کی 70 نشستوں کیلئے ووٹ ڈالے جائیں گے اور 8 فبروری کو ووٹوں کی گنتی ہوگی ۔کجریوال نے پنجاب پولیس دستوں سے دستبرداری اختیار کرکے گجرات پولیس متعین کرنے پر سوال کیا تھا جس پر دہلی پولیس نے وضاحت کردی ہے ۔ کجریوال نے پنجاب پولیس کی بجائے گجرات پولیس کی تعیناتی پر اندیشوں کا اظہار کیا تھا ۔

گجرات کی ایس آر پی ایف کمپنیوں پرکیجریوال کا اعتراض
احمد آباد: ریاستی ریزرو پولیس فورس (SRPF) کی آٹھ کمپنیاں آئندہ دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے گجرات سے تعینات کی گئی ہیں۔ ایک اہلکار نے ہفتہکے روز یہ معلومات دیں۔پہلے دن میںعآپ لیڈر اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر اس فیصلے پر سوال اٹھایا۔تیجس پٹیل، کمانڈنٹ، ایس آر پی ایف، بھاچاؤ نے اطلاع دی کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق ایس آر پی ایف کی کمپنیاں 13 جنوری کو دہلی پہنچ گئیں۔عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر دہلی کے انتخابات کے لیے SRPF کی تعیناتی کے حوالے سے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP)، مسلح یونٹس کے دفتر سے جاری کردہ ایک سرکلر پوسٹ کیا۔