دہلی میں 200 سرکاری جائیدادوں پر وقف بورڈ کی دعویداری

,

   

l مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے سرکاری محکمہ جات کی نمائندگی l عہدیداروں کو اپوزیشن ارکان کے سوالات کا سامنا
l بورڈ کی دعویداری پر غور کرنے ارکان جے پی سی کی سفارش l وقف ترمیمی بل 2024کے نوین پٹنائک بھی سخت مخالف
حیدرآباد ۔6۔ ستمبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے وقف ترمیمی بل 2024 کا جائزہ لینے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے رجوع ہوکر نئی دہلی کی 200 سے زائد مختلف جائیدادوں کی ملکیت پر نمائندگی کی ہے۔ قومی دارالحکومت نے مختلف سرکاری اداروں کے تحت موجود 200 سے زائد جائیدادوں پر وقف بورڈ میں اپنی دعویداری پیش کرتے ہوئے اسے وقف قرار دیا ہے۔ صدرنشین ریلوے بورڈ کے علاوہ شہری ترقیات اور روڈ ٹرانسپورٹ کے مرکزی سکریٹریز نے عہدیداروں کے ہمراہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے رجوع ہوکر اپنا موقف پیش کیا۔ پارلیمانی کمیٹی کے اپوزیشن ارکان نے سرکاری محکمہ جات کے سکریٹریز کی دعویداری پر سوال اٹھائے اور استفسار کیاکہ جب مرکزی وزارتوں کے تحت میکانزم موجود ہے اور ریلویز کے تحت اس کا اپنا ٹریبونل قائم ہے تو پھر وقف ترمیمی بل کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے؟ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ کئی سرکاری اداروں نے اراضیات کے بارے میں وقف بورڈس سے تنازعات میں کامیابی حاصل کی اور مذکورہ اراضیات سرکاری اداروں کے قبضہ میں ہے تو پھر مجوزہ بل کی کیا ضرورت ہے۔ اپوزیشن ارکان نے تینوں وزارتوں کے عہدیداروں سے بل میں موجود ترمیمات کے بارے میں سوالات کئے کیونکہ بیشتر ترمیمات سرکاری محکمہ جات کے قواعد کے برخلاف ہیں۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہلی میں موجود جائیدادوں کے بارے میں وقف بورڈ کے دعوے کی وقف ایکٹ 1954 کے مطابق جانچ کریں۔ مرکزی وزارت شہری ترقی نے کمیٹی سے نمائندگی کرتے ہوئے بتایا کہ برطانوی دور حکومت میں 1911-12 کے دوران نئی دہلی کو نئے دارالحکومت کے طور پر قائم کرنے کیلئے اراضیات حاصل کی گئیں۔ بعد میں دہلی وقف بورڈ نے کئی جائیدادوں کے وقف ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ وقف جائیدادوں کے کئی معاملات عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔ وقف بورڈ نے جن جائیدادوں پر اپنی دعویداری پیش کی ہے، ان میں لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے تحت موجود 108 جائیدادیں اور دہلی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے تحت موجود 138 جائیدادیں شامل ہیں۔ قومی دارالحکومت کے قیام کے لئے 341 مربع کیلومیٹر کی اراضی حاصل کی گئی تھی اور متعلقہ افراد کو معاوضہ بھی ادا کیا گیا ۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ دہلی وقف بورڈ کی دعویداری کا جائزہ لیں کہ آیا یہ دعویداری وقف ایکٹ 1954 میں طئے شدہ قواعد کے مطابق کی گئی یا نہیں۔ مرکزی حکومت کے عہدیداروں کو اپوزیشن ارکان کے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران اڈیشہ اسمبلی میں قائد اپوزیشن نوین پٹنائک نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی بیجو جنتا دل پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل کی سختی سے مخالفت کرے گی۔ نوین پٹنائک نے پارٹی کے اقلیتی سیل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اڈیشہ امن اور بھائی چارہ کیلئے شہرت رکھتا ہے ۔ 1