دینی مدارس اور پرانے شہر کے بارے میں مرکزی وزیر بنڈی سنجے کی زہر افشانی

   

پرانا شہر دہشت گردی کا گڑھ، مجلسی قیادت سے پرانے شہر کے عوام نالاں

حیدرآباد۔/22 ستمبر، ( سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیر داخلہ بنڈی سنجے کمار نے دینی مدارس اور پرانے شہر کے بارے میں پھر ایک بار زہر افشانی کرتے ہوئے دہشت گرد سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کی۔ کریم نگر میں بی جے پی کی رکنیت سازی مہم کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بنڈی سنجے کمار نے الزام عائد کیا کہ اویسی برادرس کے دہشت گردوں سے روابط ہیں۔ پرانے شہر میں اویسی برادرس کی سرپرستی میں دہشت گردی فروغ پارہی ہے اور پرانا شہر دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔ بنڈی سنجے کمار نے دینی مدارس کے بارے میں ان کے بیان پر اسد الدین اویسی کی تنقید کو مسترد کردیا اور کہا کہ ان پر اسلامو فوبیا کا شکار ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ سنجے نے کہا کہ وہ اسلامو فوبیا کا شکار نہیں ہیں بلکہ اویسی ہندو فوبیا کا شکار ہیں اور ہندوؤں کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 15 منٹ کیلئے پولیس کو ہٹانے سے متعلق بیان خود ہندوفوبیا کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مجلسی قائدین اور کارکن وندے ماترم کیوں نہیں پڑھتے اور یہ آخر کس فوبیا کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو سیکولرازم پر قائم ہیں اور ہر سال محرم کا انعقاد کرتے ہیں جبکہ اویسی برادرس نے کبھی بھی ہندو تہواروں میں شرکت نہیں کی۔ دینی مدارس سے متعلق بیان پر قائم رہتے ہوئے بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ حال ہی میں اویسی کالج میں کام کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جس کا دہشت گردوں سے تعلق تھا۔ اُتر پردیش کے بجنور کے ایک مدرسہ میں 9 افراد کو پولیس نے ہتھیاروں کے ساتھ گرفتار کیا۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ نے کہا کہ اس طرح کی گرفتاریوں پر انہوں نے کہا تھا کہ دینی مدارس میں دہشت گردوں کو تیارکیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جہاں کہیں بھی دہشت گردوں کو گرفتار کیا جاتا ہے ان کے روابط پرانے شہر سے نکلتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ووٹ بینک سیاست کے تحت مجلس نے دہشت گردوں اور روہنگیا کو آدھار اور راشن کارڈ فراہم کئے ہیں۔ بنڈی سنجے نے کہا کہ پرانے شہر کے مسلمان بھی اویسی خاندان سے نالاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی برسراقتدار آنے پر اولڈ سٹی کو نیو سٹی کی طرح ترقی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اویسی خاندان کو عوام کی جانب سے سبق سکھانے کے دن قریب آچکے ہیں۔ حیڈرا کی کارروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ وہ حیڈرا کی کارروائیوں کے مخالف نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ غیرقانونی طور پر قابض بی آر ایس قائدین کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ انہدامی کارروائی میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیئے اور سیاسی وابستگی کی پرواہ کئے بغیر غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں مرکز کی امرت اسکیم میں بے قاعدگیوں کی شکایت کی جائے تو مرکزی حکومت تحقیقات کیلئے تیار ہے۔ 1