وزارت فینانس کی سرکاری محکموں کو ہدایت‘تنظیموں کا اعتراض
نئی دہلی۔20؍ستمبر ( ایجنسیز ) مرکزی وزارت فینانس کے معاشی مشیر ڈاکٹر سمنتر پال نے مشورہ دیا ہے کہ سنٹرل پبلک سیکٹر کے اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو دیوالی اور دیگر تہواروں میں جو تحائف دیے جاتے ہیں اس رسم پر روک لگائی جائے۔ معاشی مشیر کی طرف سے 17 ستمبر کو اس سلسلے میں ڈپارٹمنٹ آف پبلک انٹرپرائزیز کو ہدایت دی ہے۔ تحائف دینے سے سرکاری خرچ بڑھتا ہے۔معاشی مشیرنے کہا ہے کہ دیکھنے میں آیا ہے مرکزی عوامی سیکٹرس کے اداروں میں دیوالی سمیت دیگر تہواروں پر تحائف دینے کی پریکٹس ہے۔ معیشت میں پبلک ریسورس کا منصفانہ استعمال ہو اس کے لیے ایسی پریکٹس پر روک لگائی جانی چاہیے۔ یہی سبب ہے کہ اب سبھی سنٹرل پبلک سیکٹرس کے اداروں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی تہوار پر تحفوں کی لین دین روک دیں۔ معاشی مشیر نے یہ بھی کہا کہ ان ہدایات پر عمل یقینی بنایا جائے۔اس معاملے میں رد عمل آنا بھی شروع ہو گیا ہے۔ بعض تنظیموں بشمول ’نیشنل مشن فار اولڈ پنشن اسکیم کے سربراہ ڈاکٹر منجیت سنگھ پٹیل کا کہنا ہے کہ وزارت مالیات کی یہ ہدایت مناسب نہیں ہے۔ سنٹرل پبلک سیکٹرس کے اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو اگر دیوالی یا دیگر تہوار پر تحائف مل جاتے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ملازم یہ سوچتا ہے کہ اس کے کام کا احترام کیا جا رہا ہے۔ اس چھوٹے سے تحفہ سے وہ ملازم دوگنے جوش کے ساتھ کام کرتا ہے۔ یہ ملازمین کا حوصلہ توڑنے والا قدم ہے۔واضح رہے کہ ڈی پی ای، وزارت مالیات کے تحت ایک نوڈل محکمہ ہے، جو سنٹرل پبلک سیکٹر کے اداروں سے متعلق پالیسیوں اور ہدایات کو تیار کرتا ہے ان کی کارکردگی کی تشخیص کرتا ہے۔ ستمبر 1985 میں مرکزی حکومت کی وزارتوں اور محکموں کی تشکیل نو کے بعد بی پی ای (بیورو آف پبلک انٹرپرائزیز) وزارت صنعت کا ایک حصہ بن گیا۔ مئی 1990 میں اس میں اصلاحات ہوئے جس سے بی پی ای کو ایک مکمل محکمہ کا درجہ ملا جسے ڈی پی ای کے نام سے جانا گیا جس کا مشن کیلئے پالیسیاں تیار کرنا، شفافیت کو فروغ دینا ہے۔