نئی دہلی: کے دیگرممالک کے برخلاف ہندوستان کو شہری بمقابلہ دیہی اور غریب بمقابلہ امیر جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ ایک فرد کی خرچ کرنے کی صلاحیت اہم ہے لیکن زیادہ تر صحت کی دیکھ بھال میٹروپولیٹن علاقوں تک محدود ہے ، جس سے دیگر علاقے طبی سہولیات سے محروم ہیں۔اس کے پیش نظر سندیپ شرما فاؤنڈیشن یہاں ایک تقریب میں مشن ریڈیولوجی انڈیا (ایم آر آئی) کا آغاز کیا۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز اور شہری ہوا بازی، حکومت ہند جنرل وی کے سنگھ (ریٹائرڈ) نے مشن ریڈیولوجی انڈیا (ایم آر آئی) کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ میں اس شاندار اور بے مثل پہل کیلئے سندیپ شرما فاؤنڈیشن کابہت مشکور ہوں۔ مشن ریڈیولوجی انڈیا کا شہری اور دیہی صحت کی دیکھ بھال کے درمیان موجود خلیج کو ختم کرکے صحت کی دیکھ بھال میں ایک نیا دور آغاز ہوگا۔ اس طرح یہ حکومت ہند کی اہم صحت کی دیکھ بھال کے پروگراموں بشمول آیشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کی معاونت کرے گا۔
ایم آر آئی ایک مہم ہے جس کا مقصد ہر ہندوستانی کو ان کے گھر کے قریب مناسب تشخیصی خدمات فراہم کرنا ہے اور بہتر رسائی اور سستی سروس کے ساتھ بیماری کے بوجھ کو کم کرنا ہے ۔ اس کو پورا کرنے کیلئے ایم آر آئی ایک ملک گیر تشخیصی مراکز کا ایک نیٹ ورک تیار کرے گا، جس کی پیروی کی جائے گی۔ گائیڈ لائنز قائم کی جائے گی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈروں کی جانب سے مجموعی طور پر نگرانی کی جائے ۔ قائم کردہ تشخیصی مراکز بہترین خدمات پیش کرتے ہیں جن میں میگنیٹک ریزوننس امیجنگ 1.5T، کمپیوٹیڈ ٹوموگرافی، ڈیجیٹل ایکسرے ، ٹیلی کنسلٹیشن اور پیتھالوجی خدمات کے علاوہ دیگر خدمات شامل ہیں۔مشن ریڈیولوجی انڈیا کے آغاز اور مائی اسٹمپ کی نقاب کشائی پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سندیپ شرما فاؤنڈیشن کے بانی اور سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیت سندیپ شرما نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ اگر صحیح تشخیص ہوجائے تو بیماری خود بخود تین چوتھائی ٹھیک ہوجاتی ہے ۔ درست تشخیص سے علاج میں مدد ملتی ہے اور یہ ڈاکٹر کا اولین مقصد ہونا چاہیے ۔ہر ہندوستانی خواہ اس کی ذات، معاشی حیثیت، سماجی حیثیت اور جغرافیائی خطہ سے قطع نظر، ہر کوئی بہترین صحت کی دیکھ بھال کا مستحق ہے ۔ مشن ریڈیولوجی انڈیاہر ہندوستانیوں کوکفایتی شرح پر معیاری تشخیصی خدمات فراہم کرکے اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔