ایک انچ زمین بھی حوالے نہیں کی جائے گی، کے سی آر کو تلنگانہ کے مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ
حیدرآباد۔/28 اگسٹ، ( سیاست نیوز) کرناٹک کے رائچور سے متعلق چیف منسٹر کے سی آر کے بیان نے دونوں ریاستوں میںنیا تنازعہ پیدا کردیا ہے۔ چیف منسٹر کرناٹک بسوا راج بومائی نے کے سی آر کی تجویز پر برہمی کا اظہار کرکے واضح کردیا کہ کرناٹک کی سرزمین کا ایک انچ حصہ بھی تلنگانہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے کہا تھا کہ سرحدی ضلع رائچور اگر تلنگانہ میں ضم کیا جائے تو وہ ترقی کرسکتا ہے۔ بسوا راج بومائی نے کے سی آر کے بیان پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کے سی آر نے حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے بسوا راج بومائی نے کہا کہ رائچور میں تھرمل پلانٹ اور ایرپورٹ ہے اس کے علاوہ کئی ترقیاتی پراجکٹس زیر دوران ہیں۔ میں نے کلیان کرناٹک ریجن ڈیولپمنٹ بورڈ کے ذریعہ فنڈز الاٹ کئے ہیں۔ رائچور کی ترقی کیلئے حکومت سے مختلف گرانٹس اجرائی کے مرحلہ میں ہیں۔ بومائی نے کہا کہ تلنگانہ نئی ریاست ہے اور خود اس کیلئے کئی مسائل ہیں۔ بومائی نے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ کرناٹک کے علاقہ پر نظر رکھنے کی بجائے اپنی ریاست کے اہم مسائل پر توجہ دیں۔ واضح رہے کہ 17 اگسٹ کو کے سی آر نے جلسہ سے خطاب میںتلنگانہ کی ترقی سے رائچور کے عوام کے متاثر ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ترقی کیلئے وہاں کے عوام تلنگانہ میں ضم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سابق میں وزیر فینانس ہریش راؤ کی جانب سے کرناٹک کے سرحدی گاؤں میں بعض خواتین سے بات چیت پر بھی تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ اس ویڈیو میں ہریش راؤ کو کرناٹک حکومت کی جانب سے دی جارہی سہولتوں کے بارے میں استفسار کرتے ہوئے دکھایا گیا اور انہوں نے دونوں ریاستوں کی فلاحی اسکیمات کا تقابل کیا تھا۔ر