اراضی کی ملکیت پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی دعویداری
حیدرآباد ۔18 ۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے شہر کے مضافات رائے درگم میں تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی اراضی کے ہراج پر حکم التواء جاری کردیا ہے۔ عدالت نے سروے نمبر 83/1 کے تحت حال ہی میں اراضی کے ہراج پر تین ہفتوں کی روک لگادی ہے۔ عدالت نے اس سلسلہ میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا ، انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن اور ایک خانگی کمپنی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ رائے درگم میں کارپوریشن کی جانب سے اراضی کے ہراج کے خلاف اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی۔ ایس بی آئی کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ اراضی اس کی ملکیت ہے۔ واضح رہے کہ انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے حالیہ دنوں میں سروے نمبر 83/1 کے تحت 5 ایکر اراضی کا ہراج کیا گیا جس میں فی ایکر 237 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ ایس بی آئی نے ہراج کے نوٹیفکیشن اور اراضی کی منتقلی کے احکامات کو چیلنج کیا۔ واضح رہے کہ 2010 میں حکومت نے رائے درگم میں ایس بی آئی کو 5 ایکر اراضی الاٹ کی تھی جس کیلئے 13.33 کروڑ ادا کئے گئے ۔ ایس بی آئی میں ایس بی ایچ کے انضمام کے بعد وہاں موجود دو اے ٹی ایم مراکز کے انتظامات ایس بی آئی نے اپنے ذمہ لی ہیں۔ 2020 میں اراضی الاٹمنٹ کی منسوخی کے خلاف ایس بی آئی نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ ہائی کورٹ نے ایس بی آئی کی درخواست پر حکومت کو دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی تھی۔ 2024 میں موجودہ حکومت کی جانب سے اراضی الاٹمنٹ کو منسوخ کئے جانے پر ایس بی آئی ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی ہے۔ عدالت میں معاملہ زیر دوران ہے، باوجود اس کے انفراسٹرکچر کارپوریشن نے اراضی کا ہراج کیا۔1/k/m/b