رائے درگ اراضی آکشن میں مداخلت سے سپریم کورٹ کا انکار

   

درخواست گزار کو ہائی کورٹ سے رجوع ہونے چیف جسٹس کا مشورہ
حیدرآباد۔21۔اگسٹ (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے رائے درگ میں اراضیات کے آکشن کے معاملہ میں مداخلت سے انکار کردیا ۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں کوئی اعتراض ہے تو وہ تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوں ۔ چیف جسٹس سوریاکانت کی زیر قیادت بنچ پر رائے درگ کے قریب دو سروے نمبرات کے تحت 11 ایکر اراضی کے آکشن کے لئے تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا۔ درخواست گزار نے بتایا کہ کارپوریشن نے فی ایکر 175 کروڑ روپئے میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جے پرنائے سمہا راؤ نامی شخص نے سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابق میں کنچا گچی باؤلی کی اراضیات پر سپریم کورٹ نے حکم التواء جاری کیا تھا ۔ حکومت اراضی کے تحفظ کے نام پر اسے فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ابھیشک منو سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار سپریم کورٹ کو غلط معلومات کے ذریعہ گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کنچا گچی باؤلی اور موجودہ اراضی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنچا گچی باؤلی کی اراضی رائے درگ کی آکشن کی جانے والی اراضی سے پانچ کیلو میٹر دوری پر ہے۔ چیف جسٹس نے ابھیشک منو سنگھوی کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے اراضی کے آکشن معاملہ میں مداخلت سے انکار کردیا اور درخواست کو مسترد کردیا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے حکومت اور انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کو بڑی راحت ملی ہے۔ 1/k