راجستھان میں 25 سالہ سرویس پر پوری پنشنسرکاری ملازمین کا اعتماد جیتنے گہلوٹ حکومت کا اہم فیصلہ

   

جے پور: انتخابی سال میں سی ایم اشوک گہلوت ملازمین کا اعتماد جیتنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اسی کڑی میں حکومت نے منگل کی رات کابینہ کی میٹنگ میں کئی بڑے فیصلے کئے ہیں۔ اس کے تحت سب سے بڑا فیصلہ سرکاری ریاستی ملازمین کو 25 سال کی سروس کے بعد ہی پوری پنشن کا فائدہ دینے کا اعلان ہے۔ راجستھان میں اب سرکاری ملازمین کو 28 کے بجائے 25 سال کی سروس کے بعد ریٹائرمنٹ لینے کے بعد بھی پوری پنشن ملے گی۔ اس کے ساتھ 75 سال کے پنشنرز یا فیملی پنشنرز کو 10 فیصد اضافی پنشن الاؤنس ملے گا۔وزیر اعلیٰ گہلوت نے اب 55 فیصدی او بی سی طبقے کو سادھنے کی بڑی کوشش کی ہے۔اس کے لیے گہلوت کابینہ نے بڑا داوں چلا ہے۔ اب اگر او بی سی-ایم بی سی زمرہ کی بھرتی میں اہل امیدوار نہیں پائے جاتے ہیں تو ان عہدوں کو تین سال تک خالی رکھنے اور آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ابھی یہ انتظام صرف ایس سی-ایس ٹی زمرہ میں تھا۔ اب او بی سی کو بھی یہ سہولت ملے گی۔ حکومت کے اس فیصلے کو انتخابات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔گہلوت حکومت کے فیصلے کے مطابق اب کسی ملازم یا پنشنر کی موت پر اس کے شادی شدہ معذور بیٹے بیٹی کو بھی فیملی پنشن کا فائدہ ملے گا۔اس تبدیل شدہ اصول کا فائدہ 1 اپریل 2023 سے دستیاب ہوگا۔ اس کے ساتھ ملازمین کی خصوصی تنخواہ میں اضافے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ کابینہ نے راجستھان سول سروسز (نظرثانی شدہ تنخواہ) رولز 2017 میں ترمیم کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ گہلوت نے 2023-24 کے بجٹ میں اس کا اعلان کیا تھا۔