5 لاکھ نوجوانوں کو سبسیڈی ، 10 تا 15 جون ٹریننگ پروگرامس، ڈپٹی چیف منسٹر کا اعلیٰ سطحی اجلاس
حیدرآباد 27 مئی (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ 2 جون سے ریاست کے تمام اسمبلی حلقہ جات میں راجیو یوا وکاسم اسکیم کے منتخب امیدواروں میں منظوری مکتوب جاری کئے جائیں گے۔ بھٹی وکرامارکا نے سکریٹریٹ میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جس میں راجیو یوا وکاسم اسکیم پر عمل آوری کا جائزہ لیا گیا۔ اُنھوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ منتخب امیدواروں کے منظوری لیٹرس 2 جون تک تیار رکھیں تاکہ ہر اسمبلی حلقہ میں عوامی نمائندوں کی موجودگی میں تقسیم عمل میں آئے۔ چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ کے ہمراہ بھٹی وکرامارکا نے استفادہ کنندگان کے انتخاب میں شفافیت کو برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے نوجوانوں کو خود مکتفی بنانے کے لئے یہ منفرد اسکیم شروع کی ہے اور بیروزگار نوجوانوں کے خوابوں کی تکمیل کے لئے تمام ریاستی وزراء سرگرم ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ 2 تا 9 جون منتخب امیدواروں میں منظوری لیٹرس جاری کئے جائیں گے۔ 10 تا 15 جون ضلعی اور اسمبلی حلقہ کی سطح پر امیدواروں کے لئے ٹریننگ پروگرامس منعقد کئے جائیں گے۔ 15 جون کے بعد امیدواروں کے پراجکٹس پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ امیدواروں نے جس شعبہ اور کاروبار کا انتخاب کیا ہے اُس سلسلہ میں رہنمائی کی جائے گی۔ اسکیم کے تحت ریاست بھر میں 5 لاکھ نوجوانوں کو سبسیڈی پر مبنی قرض فراہم کیا جائے گا اور 2 اکٹوبر گاندھی جینتی تک یہ مرحلہ مکمل ہوجائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہاکہ مرحلہ وار طور پر اسکیم پر عمل کیا جائے۔ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی بہبود کے عہدیدار ضلع انچارج منسٹرس کے ساتھ بہتر تال میل برقرار رکھیں اور ضلع کلکٹرس کے ذریعہ اسکیم پر عمل آوری کی جائے۔ امیدواروں کے انتخاب میں ضلع کے وزراء کے علاوہ انچارج وزراء کا رول اہمیت کا حامل رہے گا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ ایسے نوجوان جو ڈیلیوری سرویسیس میں دلچسپی رکھتے ہیں، اُنھیں راجیو یوا وکاسم کے تحت 2 وہیلر گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔ اُنھوں نے مختلف کارپوریشنوں کے صدورنشین کو ہدایت دی ہے کہ تمام موصولہ درخواستوں کو فوری طور پر متعلقہ ضلع کلکٹرس کے پاس روانہ کریں۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ سابق بی آر ایس حکومت نے فلاحی اسکیمات کو فراموش کردیا تھا۔ ریونت ریڈی کی زیرقیادت کانگریس حکومت نے سرکاری جائیدادوں پر تقررات کے علاوہ راجیو یوا وکاسم کے ذریعہ تجارت سے مربوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں ایک سال میں نوجوانوں کی بھلائی پر 8 ہزار کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ بینکرس کی جانب سے اسکیم کی کامیابی میں تعاون حاصل ہوگا۔ اُنھوں نے عہدیداروں سے کہاکہ ضلع کلکٹرس کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ 2 جون کے پروگرام کو قطعیت دیں۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ ، چیف منسٹر کے مشیر وی نریندر ریڈی کے علاوہ پرنسپل سکریٹری فینانس سندیپ کمار سلطانیہ، پرنسپل سکریٹری ایس سی ڈیولپمنٹ سریدھر، کمشنر بی سی ویلفیر بی مایا دیوی، کمشنر اقلیتی بہبود یاسمین باشاہ اور ڈپٹی چیف منسٹر کے اسپیشل سکریٹری کرشنا بھاسکر نے شرکت کی۔1