لکھنؤ، 30 جون (یو این آئی) ایودھیا میں شری رام مندر کے نذرانوں میں مبینہ چوری، خرد برد اور مالی بے ضابطگیوں کے معاملے پر بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی شکایات درست ہیں تو یہ نہایت سنگین اور باعثِ تشویش معاملہ ہے ، اور اس میں ملوث افراد کے خلاف غیرجانبدارانہ اور سخت کارروائی ہونی چاہیے ۔ ساتھ ہی انہوں نے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ مایاوتی نے منگل کی صبح سماجی ذرائع ابلاغ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایودھیا کے شری رام مندر میں عقیدت مندوں کے نذرانوں میں چوری، خرد برد اور مالی بے ضابطگیوں کی خبریں انتہائی سنگین ہیں۔ اس معاملے میں جو بھی قصوروار ہو، اسے کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ نذرانوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کی شکایت سے بچنے کیلئے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو ملک کے دیگر اہم مندروں میں رائج شفاف حساب کتاب اور انتظامی نظام کا جائزہ لے کر اسے اختیار کرنا چاہیے ۔ اس سے نہ صرف موجودہ تنازع کا مناسب حل نکلے گا بلکہ عقیدت مندوں کا اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔ مایاوتی نے کہا کہ سیاست کا جرائم زدہ ہونا، جرائم کو سیاسی رنگ دینا، مذہب کو سیاست کا ذریعہ بنانا اور سیاست کو اندھی مذہبی سوچ کا شکار بنانا جمہوری نظام کیلئے ہرگز مناسب نہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور ملک کے عوام سے اپیل کی کہ اس معاملے کو قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے دیکھا جائے اور عوامی مفاد کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران ایودھیا کے شری رام مندر میں نذرانوں کے انتظام اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے تنازع سامنے آیا ہے ۔ ان الزامات کے بعد ٹرسٹ کے انتظامی طریقۂ کار اور شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں مایاوتی نے قصوروار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے معاملے کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور شفاف انتظامی نظام کو ترجیح دی جانی چاہیے ۔