راہول نے پیلٹ گن سے زخمی ساحل کو میڈیا کے روبرو پیش کیا

,

   

ایک آنکھ کی بینائی سے محرومی کا خطرہ، طلبہ کے ساتھ حکومت کے رویہ کی مذمت

حیدرآباد ۔24 ۔ جولائی (سیاست نیوز) لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے 20 جولائی کو جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس کی پلٹ گن سے زخمی ہونے والے نوجوان ساحل کو میڈیا کے روبرو پیش کیا۔ انہوں نے پولیس کی بربریت کی مذمت کی اور کہا کہ پلٹ گن کا استعمال اور وہ بھی طلبہ کے خلاف انتہائی شرمناک ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ 19 سالہ ساحل جو دہلی یونیورسٹی کی طالب علم ہیں جو اپنے خاندان کی کفالت کے لئے پارٹم ٹائم کار چلانے کا کام کرتے ہیں۔ دیگر ہزاروں طلبہ کے ساتھ انہوں نے بھی امتحانی پرچہ جات کے افشاء کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا۔ 2025 میں ایس ایس سی دہلی کانسٹبل امتحان کے پرچہ کے افشاء کے معاملہ میں وہ خود بھی متاثر ہوئے ہیں۔ امتحانی پرچہ جات کے دوبارہ افشاء کو روکنے کیلئے انہوں نے طلبہ کے ساتھ احتجاج میں شرکت کی۔ نوجوانوں کے بہتر مستقبل کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کے دوران وہ پولیس کی پلٹ گنس کا نشانہ بن گئے جس کے نتیجہ میں ان کی ایک آنکھ کی بینائی مستقل طور پر جاسکتی ہے ۔ ساحل کو ایک آنکھ کی بینائی سے محرومی کا اندیشہ ہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ حکومت سے سوال کرنے اور جوابدہی کا مطالبہ کرنے پر حکومت طلبہ کے ساتھ یہ سلوک کر رہی ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ہم ساحل کے ساتھ کھڑے ہیں اور جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے ہر طالب علم کو ہماری تائید حاصل ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ بہت ہوگیا اب وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بہر صورت استعفیٰ دینا چاہئے۔ 1/k/i