پیپر لیک سے جان گنوانے والے طلباء کو خراج۔ کئی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کی شرکت ۔ سی جے پی و سرکاری نمائندوں کی آج ملاقات
نئی دہلی، 23 جولائی (یو این آئی) مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی کانگریس نے پرچہ لیک معاملے پر حکومت پر دباؤ مزید اضافہ کرکے آج شام راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن قائدین کے ساتھ گاندھی اسمرتی پہنچ کر نیٹ پرچہ لیک سے متاثر طلبہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ راہول گاندھی نے کہا کہ نیٹ پرچہ لیک کے بعد جان گنوانے والے طلبہ کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی اور انہیں انصاف دلانے کی کوشش جاری رہیگی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مضبوطی کے ساتھ طلبہ کے ساتھ ہے اور وہ تنہا نہیں ہیں۔ قائد اپوزیشن راہو گاندھی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ اور رہنما گاندھی اسمرتی جا رہے ہیں تاکہ ان طلبہ کو یاد کیا جا سکے جنہیں نیٹ پرچہ لیک کے بعد جان گنوانی پڑی، اور ان طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے جو انصاف اور جوابدہی کا مطالبہ کرنے پر تشدد کا نشانہ بنے ۔ گاندھی اسمرتی روانگی سے قبل راہول گاندھی نے کہا کہ جس مقام پر مہاتما گاندھی کو قتل کیا گیا تھا، آج اس ملک میں جمہوریت کا قتل کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طلبہ پر سفاکیت کی جا رہی ہے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وزیر تعلیم کو برطرف کیا جائے اور طلبہ سے معافی مانگی جائے ۔ پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ ملک میں طلبہ کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اس موقع پر ترنمول ، جے ایم ایم ‘ شیو سینا (ادھو)، آر ایس پی، سی پی آئی اور دیگر جماعتوں کے رہنما موجود تھے ۔ اس دوران کہا گیا کہ حکومت اور سی جے پی کے نمائندوں کی جمعہ کو ملاقات ہوگی ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ ملاقات دوپہر 12.30 بجے ہوگی تاہم ملاقات کے مقام کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے ۔
دھرمیندر پردھان کے استعفی کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا ‘کانگریس
لاٹھیاں برسانے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ۔ انٹرنیٹ مسدود کرنے کی مذمت
نئی دہلی، 23 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے حکومت پر طلبہ کی تحریک کو دبانے انٹرنیٹ بند کرنے اور کناٹ پلیس کی دکانوں و دفاتر پر پابندی لگانے کا الزام عائد کرکے کہا ہے کہ ان اقدامات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو ہٹانا ہی پڑے گا۔کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے وزیرِ اعظم مودی کے طلباء سے متعلق بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو پہلے مسٹر پردھان کو عہدے سے ہٹانا چاہیے ۔ طلبہ کے مطالبات سننے کے بجائے حکومت ان پر لاٹھی برسا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی طلباء کی فکر کرتی ہے تو اسے وزیرِ تعلیم کو ہٹانے کے ساتھ ہی طلبہ پر طاقت کا استعمال کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے نیز طلبہ کی شکایات پر بات کرنی چاہیے ۔اس درمیان، دار الحکومت میں طلبہ کے مظاہرے کے پیشِ نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ۔ کناٹ پلیس کے دکانداروں کو شام ساڑھے چھ بجے تک دکانیں، دفاتر اور ریستوران بند کرنے کا مشورہ دیا گیا، جبکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر دہلی میٹرو کے کئی اسٹیشنوں آمد و رفت پر عارضی بندی لگاکر علاقہ میں بھاری فورس تعینات کی گئی ہے ۔کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے 2015 کے ویاپم امتحان اور بھرتی گھوٹالے اور موجودہ این ٹی اے پیپر لیک معاملے کا موازنہ کرکے کہا کہ دونوں معاملات میں ذمہ دار لوگوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے عہدے پر رہتے ہوئے پارلیمنٹ میں اس معاملے پر کوئی بھی بحث با معنی نہیں ہوگی ۔