راہول گاندھی کی 137 روز بعد پارلیمنٹ کو واپسی

,

   

سپریم کورٹ سے راحت کے بعد لوک سبھا کی رُکنیت بحال ، کانگریس کا جشن

نئی دہلی: سپریم کورٹ کی جانب سے 2019 ء کے مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے میں سزا کو روکنے کے تین روز بعد کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی پارلیمانی رکنیت آج پیر کو بحال کر دی گئی ۔ لوک سبھا سکریٹریٹ کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن پڑھا گیا کہ راہول گاندھی کی لوک سبھا رکن پارلیمنٹ کے طور پر نااہلی کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ راہول 137 روز بعد پارلیمنٹ ہاؤس واپس ہوئے ہیں۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے سپریم کورٹ کے حکم پر آج صبح ہی راہول کی پارلیمنٹ کی رکنیت بحال کر دی۔ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر راہول نے سب سے پہلے مہاتما گاندھی کے مجسمے پر پھول چڑھائے۔اس کے بعد وہ پارلیمنٹ کے اندر چلے گئے۔راہول ابھی لوک سبھا میں اپنی کرسی پر بیٹھے تھے کہ پانچ منٹ بعد ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔جب راہول پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر پہنچے، اپوزیشن اتحاد انڈیا کے ارکان پارلیمنٹ استقبال کیلئے کھڑے ہو گئے۔ اراکین پارلیمنٹ نے ’’راہول تم آگے بڑھو، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ کے نعرے لگائے۔مودی سرنیم ہتک عزت کیس میں 23 مارچ کو راہول کو ذیلی عدالت نے دو سال کی سزا سنائی تھی۔ اس کے 24 گھنٹے کے اندر 24 مارچ کو لوک سبھا رکنیت ختم کردی گئی تھی ۔ اس کے بعد گجرات ہائیکورٹ نے بھی سزا کو برقرار رکھا تھا۔