نرسنگھا نند اور وسیم رضوی کو گرفتار کیا جائے ۔ مسلم مجلس
نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس نے ڈاسنہ مندر کے مہنت نرسنگھا نند اور شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیرمین وسیم رضوی کے رسول اللہ ﷺ اور قرآن مجید اور اسلام کے خلاف توہین آمیز بیانات اور تحریروں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے ۔مسلم مجلس کے قومی صدر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد خاں نے بیان جاری کرکے الزام لگایا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بی جے پی کی مرکزی حکومت اور ریاستی سرکاروں نے رسول اللہ ﷺ، قرآن اور اسلام کے خلاف شر انگیز مہم کو کھلی جھوٹ دے رکھی ہے ۔ حال ہی میں وسیم رضوی نے نبی کریم محمد ﷺ کے خلاف جھوٹ پر مبنی ایک کتاب لکھی ہے اور ڈاسنہ کے مندر میں اس کا اجراء اسلام اور مسلمانوں کے دشمن مہنت نرسنگھا نند سے کرایا اور اس موقع پر نرسنگھا نند نے رسول اللہؐ کی شان میں گستاخی کی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔اس سے پہلے تری پورہ میں بھی رسول اللہؐ کے خلاف نعرے لگائے گئے تھے اور مسجدوں میں آگ لگاکر قرآن مجید کو جلایا گیا تھا۔ وسیم رضوی نے اپنی کتاب میں رسول اللہؐ، قرآن اور اسلام پر رکیک حملے کرکے شیعوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بھی اس کی طرح اسلام کو ترک کرکے مرتد ہوجائیں۔ مسلم مجلس کا مطالبہ ہے کہ اس شرانگیزی پر روک لگائی جائے اور انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ان مفسدوں کو سرکاری سیکوریٹی فراہم کرکے ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔ تبلیغ اسلام کے داعی مولانا کلیم صدیقی اور محمد عمر گوتم اپنے ساتھیوں کے ساتھ جیل میں بند ہیں اور فتنہ پھیلانے والے نرسنگھا نند اور سیم رضوی آزاد گھوم رہے ہیں۔ یہ دو ہرا معیار قابل مذمت ہے اور حکومت کی بدنامی کا سبب ہے ۔