کمسن کو بچانے فرشتہ ثابت ہوئے، لڑکے کے والدجتیندرکوجذبہ رواداری نے متاثر کیا
حیدرآباد۔یکم؍ جنوری، ( سیاست نیوز) ملک میں جارحانہ فرقہ پرست طاقتوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں جن کے ذریعہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ملک میں آج بھی مذہبی رواداری پر اٹوٹ ایقان رکھنے والے افراد موجود ہیں جو ملک کے سیکولر اور جمہوری ڈھانچہ کو بچانے میں اپنا حصہ ادا کررہے ہیں۔ مدھیہ پردیش جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ایک مسلمان نے 60 دن کے نوزائدہ بچہ کی زندگی بچانے کیلئے خون کا عطیہ دیا۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے چھتر پور ضلع میں پیش آیا۔ 60 دن کے نوزائدہ لڑکے کو انیمیا کی شکایت ہے اس سلسلہ میں جب ہاسپٹل سے خون کی ضرورت کے بارے میں فون کال موصول ہوا تو 36 سالہ رفعت خان نے ایک سکنڈ بھی ضائع کئے بغیر موٹر سیکل پر ضلع ہاسپٹل پہنچ گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ رفعت خان نماز کی ادائیگی کے بعد گھر واپس ہورہے تھے کہ انہیں فون کال موصول ہوا جس میں وکاس گپتا نامی نوزائدہ لڑکے کیلئے اے پازیٹیو خون کی سخت ضرورت کی اطلاع دی گئی۔ نوزائدہ لڑکا جو انیمیا سے متاثر ہے ریڈ بلڈ سیلس کی کمی کے نتیجہ میں اس کی صحت بگڑ چکی تھی۔ رفعت خان نے بتایا کہ انہوں نے ایک سکنڈ بھی سوچے بغیر اپنی موٹر سیکل اسٹارٹ کی اور ضلع ہاسپٹل پہنچ گئے تاکہ بچہ کی جان بچاسکیں۔ نوزائدہ کے والد جتیندر کا تعلق منوریا گاؤں سے ہے اور انہوں نے رفعت خان سے ربط پیدا کیا اور کہا کہ خون کے حصول میں ان کی مساعی ناکام ہوچکی ہے اور اس معاملہ میں کسی نے دھوکہ بھی دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جتیندر سے 750 روپئے حاصل کرتے ہوئے نامعلوم شخص نے خون کا انتظام کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن دھوکہ دے دیا۔ لڑکے کے والد جتیندر نے کہاکہ رفعت خان کے خون کے عطیہ کے بعد میرے فرزند کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ رفعت خان میرے لڑکے کیلئے فرشتہ ثابت ہوئے اور مسکراتے ہوئے انہوں نے خون کا عطیہ دیا۔ ماہر امراض اطفال ڈاکٹر مکیش پرجاپتی جو ہاسپٹل میں نومولود بچوں کے وارڈ کے انچارج ہیں کہا کہ وکاس گپتا کی حالت خون چڑھانے کے بعد مستحکم ہوئی ہے۔ اب نوزائدہ بچہ کی حالت خطرہ سے باہر ہے۔ ر