لندن۔ فن لینڈ اور برطانیہ کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ روزانہ ورزش کرتے ہیں انہیں نمونیا کی شکایت بھی بہت کم ہوتی ہے۔اس تحقیق میں دس لاکھ سے زیادہ افراد پر کیے گئے دس الگ الگ مطالعات میں جمع شدہ معلومات کا تجزیہ کیاگیا جس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ورزش سمیت دیگر اقسام کی جسمانی مشقت کرنے کے عادی تھے، ان میں نمونیا کا خطرہ بہت کم تھا۔اس کے علاوہ، یہ بھی معلوم ہواکہ جو لوگ زیادہ تر بیٹھے رہتے ہیں اور چلنے پھرنے سے گریز کرتے ہیں، ان کیلیے صحت کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ نمونیا کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔واضح رہے کہ نمونیا پھیپھڑوں اور سانس کی بیماری ہے جو وائرس یا جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔اگرچہ یہ چھوٹے بچوں کیلیے زیادہ خطرناک اور ہلاکت خیز ہے لیکن بڑے اور عمر رسیدہ افراد بھی بڑی تعداد میں اس سے شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔ورزش اور جسمانی مشقت کے طبّی فوائد پر اب تک کئی تحقیقات ہوچکی ہیں تاہم یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تحقیق ہے جس میں نمونیا سے تحفظ کا اضافی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔یادرہے کہ اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل جیروسائنس کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔کورونا کے اس دور میں نمانیا سے خود کو محفوظ رکھنے کی ڈاکٹرس سختی سے ہدایت دے رہے ہیں تاکہ سانس اور دیگر مسائل کی وجہ سے عوام کورونا کا شکار نہ بنیں۔