کیف : یوکرین کی نائب وزیر خارجہ نے اپنے دورہ ہندوستان کے دوران اس سے انسانی امداد اور سفارتی حمایت کی اپیل کردی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہندو ستان نے اب تک روس کی جانب سے اپنے یورپی پڑوسی ملک پر حملے کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے مغربی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے سکیوریٹی تعاون اور دفاعی معاہدوں، تیل کی درآمدات کے لیے ماسکو پر انحصار کے درمیان مشکل خارجہ پالیسی اختیار کی ہے۔یوکرین کی پہلی نائب وزیر خارجہ نے رواں ہفتے اپنی ہندوستانی ہم منصب سے ملاقات کی، دونوں رہنماں کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات گزشتہ سال روس یوکرین تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرینی لیڈرنے دوائیوں، طبی آلات فراہمی کی درخواست کی اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے نریندر مودی کو لکھا خط دیا۔اس میں کہا گیا ہے کہ یوکرینی لیڈرنے اپنے دورے کے دوران یوکرین کی ہندوستان کے ساتھ مضبوط اور قریبی تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔یوکرینی نائب وزیر خارجہ نے منگل کے روز نئی دہلی میں ایک تھنک ٹینک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ہندوستان جنگ کو ختم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے حاضری کو بتایا کہ ہم ہر اس کوشش کا خیر مقدم کریں گے جس سے جنگ کا حل نکل سکے، انہوں نے ہندوستان پر زور دیا کہ وہ رواں سال جی 20 گروپ کی صدارت کو تنازعات کی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے استعمال کرے۔ہندوستان نے عوامی سطح پر روسی حملے کی مذمت سے گریز کیا لیکن نریندر مودی نے گزشتہ سال روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے کہا تھا کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔