روسی صدر کا دورۂ چین ، دونوں ممالک کے تعلقات غیرمعمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں
ماسکو ۔ 19 مئی (ایجنسیز) روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ روس اور چین کے تعلقات ”غیر معمولی سطح” تک پہنچ چکے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کسی کے خلاف نہیں بلکہ استحکام اور امن کے فروغ کیلئے ہے۔چین کے متوقع دورہ سے قبل اپنے بیان میں پوٹن نے کہا کہ ماسکو اور بیجنگ مختلف معاملات میں ایک دوسرے کی حمایت کیلئے تیار ہیں، جن میں دونوں ممالک کی خودمختاری اور قومی اتحاد کا تحفظ بھی شامل ہے۔روسی صدر نے مزید کہا:چین کے ساتھ ہماری دوستی کسی کے خلاف نہیں، بلکہ ہم مل کر امن کے قیام کیلئے کام کر رہے ہیں۔پوٹن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب روس اور چین کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور اقتصادی تعاون تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے ماحول میں ہو رہی ہے ،جہاں ماسکو اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، جبکہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ بھی جاری ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں ممالک نے توانائی، ٹیکنالوجی، تجارت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا ہے، جبکہ دوطرفہ تجارتی حجم بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔روس اور چین باہمی تجارت میں مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک ”برکس” اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے بین الاقوامی اتحادوں میں بھی تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔پوٹن کے حالیہ بیانات کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے ایک واضح سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ کے باعث روس پر مغربی دباؤ اور پابندیاں برقرار ہیں، جبکہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی اور تائیوان کے معاملات پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔اس کے باوجود ماسکو اور بیجنگ مسلسل یہ مؤقف دہرا رہے ہیں کہ ان کے تعلقات کا مقصد مغرب کے خلاف کوئی فوجی اتحاد بنانا نہیں، اگرچہ عالمی معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور قربت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔پوٹن کا یہ بیان ان کے متوقع دورہ چین سے قبل سامنے آیا ہے، جہاں یوکرین جنگ، توانائی، اقتصادی تعاون، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کی صورتحال سمیت کئی اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور چین کا بڑھتا ہوا اتحاد عالمی سیاست میں ایک بڑی جغرافیائی و سیاسی تبدیلی بن سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک امریکی اور مغربی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک نیا عالمی توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔