انقرہ : ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے کہا ہے کہ بحیرہ اسود اناج راہداری سمجھوتے میں ترکیہ کی کامیابی ہر ایک کی زبان پر ہے۔صدر رجب طیب اردغان نے پرائیویٹ ٹیلی ویڑن چینل کی مشترکہ براہ راست نشریات میں اخباری نمائندوں کے سوالات کے جواب دیئے اور ایجنڈے کے موضوعات کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا ہے کہ ڈپلومیسی کے میدان میں ترکیہ کی کامیابی کی سب سے بڑی مثال روس اور یوکرین ہیں۔ روس۔یوکرین جنگ میں ترکیہ واحد ملک ہے جسے اس وقت بحیثیت ثالث ملک دِکھایا جا رہا ہے۔ بحیرہ اسود اناج راہداری سمجھوتے کے معاملے میں ترکیہ کی کامیابی دنیا میں ہر خاص و عام کی زبان پر ہے۔صدراردغان نے کہا ہے کہ صدر پوتن کے ساتھ ہمارے مذاکرات بھی نہایت واضح اور دو ٹوک ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں اناج راہداری کے ذریعے بھیجے جانے والے اناج کے 44 فیصد کو یورپ بھیجنے کی بجائے آئیے اس اناج کو پسماندہ افریقی ممالک کو بھیجیں۔ جواباً میں نے کہا ہے کہ ایسا ہے تو آپ گندم بھیجیں ہم اسے آٹے میں تبدیل کر کے یہاں سے پسماندہ ممالک کو بھیجتے ہیں۔ ہمارے درمیان اس موضوع پر اتفاق ہو گیا ہے۔