روس اور ہندوستان کے مابین مشترکہ اسلحہ سازی پرمذاکرات

,

   

باہمی تجارتی تعلقات ، جوہری توانائی اور خلائی سفر جیسے شعبوں میں قریبی تعاون پراتفاق

ماسکو : روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جدید ہتھیاروں کی مشترکہ تیاری کے حوالے سے انہوں نے اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ منگل کے روز تبادلہ خیال کیا۔ ماسکو اور نئی دہلی اپنے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔رواں برس روسی وزیر خارجہ لاوروف کی ہندوستانی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے ساتھ پانچویں ملاقات تھی۔روسی خبر رساں ایجنسی تاس کی اطلاع کے مطابق لاوروف کا کہنا تھا، “ہم نے فوجی تکنیکی تعاون بشمول جدید ہتھیاروں کی صورت حال اور تیاری امکانات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔” تاس نے تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔لاوروف کا کہنا تھاکہ دونوں مملک اپنے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں اور جوہری توانائی اور خلائی سفر جیسے شعبوں میں بھی زیادہ قریبی تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ہند وستان دہائیوں تک روسی فوجی ساز و سامان پر انحصار کرتا رہا ہے۔ جب کہ روس ہندوستانی دواؤں اور طبی مصنوعات کا چوتھا سب سے بڑا مارکیٹ بھی ہے۔فروری میں یوکرین پر روس کے فوجی حملے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا یہ ماسکو کا پہلا دورہ تھا۔ ان کے ساتھ وزارت زراعت، پٹرولیم اور قدرتی گیس، بندرگاہوں اور جہاز رانی، خزانہ، کیمیکلز اور فرٹیلائزر اور تجارت کے اعلیٰ افسران بھی دورے پر گئے ہیں۔جے شنکر کا کہنا تھا، “روس ہمارا مستحکم اور وقت کی کسوٹی پر پورا اترنے والا شراکت دار ہے۔ اگر پچھلے کئی دہائیوں پر مشتمل ہمارے باہمی تعلقات کا معروضی تجزیہ کیا جائے تو اس بات کی تصدیق ہوگی کہ اس نے درحقیقت دونوں ملکوں کے مفادات کو بہت، بہت ہی بہتر طور پر پورا کیا ہے۔”خیال رہے کہ ہندوستان کے ماسکو اور مغرب دونوں کے ساتھ ہی قریبی تعلقات ہیں اور یہ ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جس نے یوکرین میں روسی جنگ کی مذمت نہیں کی ہے۔ نئی دہلی روس کے خلاف مغربی پابندیوں کی بھی حمایت نہیں کرتا اور اس کے بجائے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کے حق میں ہے۔ہندوستان اور روس اپنے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت اور جوہری توانائی اور خلائی سفر جیسے شعبوں میں بھی زیادہ قریبی تعاون کرنا چاہتے ہیں ۔ ہندوستان اور روس اپنے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت اور جوہری توانائی اور خلائی سفر جیسے شعبوں میں بھی زیادہ قریبی تعاون کرنا چاہتے ہیںجے شنکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہندوستان روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔چونکہ مغربی ممالک ماسکو سے ایندھن پر اپنا انحصار کم سے کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ایسے میں ہندوستان ۔چین کے بعد روس سے ایندھن خریدنے والا دوسرا سب سے بڑا خریدار بن گیا ہے۔ہندوستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا، “دنیا میں تیل اور گیس کے تیسرے سب سے بڑے صارف کے طور پر نیز ایک ایسے ملک کے طور پر جس کی آمدنی بہت زیادہ نہیں ہے، ہمیں سستے وسائل کی طرف دیکھنا ہوگا۔ اس لیے ہندو ستان اور روس کے درمیان تعلقات ہمارے لیے ایک اضافی فائدہ ہے۔”خیال رہے کہ فروری میں یوکرین پر فوجی حملے سے قبل ہندوستان کی روس سے تیل کی درآمدات تقریباً 2 فیصد تھی جو کہ ستمبر میں اب تک کی سب سے زیادہ شرح 23 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔