ماسکو: شام میں بشار الاسد کا 24 سالہ دورِ اقتدار زمین بوس ہوگیا اور وہ خاندان کے ہمراہ روس فرار ہوگئے۔روس نے شام کی تازہ صورتحال پر سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اقوام متحدہ میں درخواست دیدی۔اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نائب نمائندے دمتری پولیانسکی نے اس امید کا اظہار کیا ہیکہ فوری طور پر سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلالیا جائے گا۔مستقل مندوب دمتری پولیانسکی نے مزید کہا کہ اسرائیل کے گولان کی پہاڑیوں پر قبضے اور وہاں اقوام متحدہ کی غیر فوجی علاقے (بفر زون) پر بات کرنا ضروری ہے۔شام کی صورتحال پر روس کے اقوام متحدہ میں نمائندے دمتری نے کہا بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا روس اور مشرق وسطیٰ پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اس کا فیصلہ مستقبل کرے گا۔بشار الاسد شام میں باغیوں کے قبضے کے بعد طیارے میں اہل خانہ کے ہمراہ روس پہنچ گئے جہاں انھیں سیاسی پناہ دیدی گئی۔اے ایف پی کے ایک صحافی نے دیکھا کہ پیر کی صبح ماسکو میں شامی سفارت خانے میں آدمیوں کے ایک گروپ نے حزبِ اختلاف کا پرچم بلند کیا۔سفارت خانے کی بالکونی میں کھڑے افراد نے تالیاں بجائیں اور گانا گایا جب انہوں نے گرتی ہوئی برف کے نیچے سبز، سرخ، سیاہ اور سفید رنگوں پر مشتمل شامی حزبِ اختلاف کا پرچم لہرایا۔سفارت خانے کے ایک نمائندے نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ٹاس کو بتایا، “آج سفارت خانہ کھل گیا اور ایک نئے پرچم تلے معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔
“روس شام کے معزول صدر بشار الاسد کا اہم اتحادی تھا۔کریملن کے ایک ذریعے نے اتوار کے روز روسی خبر رساں ایجنسیوں کو بتایا کہ جب مسلح اپوزیشن گروپ دمشق میں داخل ہوئے توالاسد ملک سے فرار ہو گئے تھے اور اس وقت وہ اور ان کا خاندان ماسکو میں تھے۔ذرائع نے یہ بھی کہا کہ حزبِ اختلاف کی مسلح افواج جنہوں نے انتہائی غیر متوقع حملے میں الاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا، انہوں نے “شام کی سرزمین پر روسی فوجی مراکز اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔”